رمضان کی تیاریاں بھرپور طریقہ سے کی جائیں‘شکیل احمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر) جماعت اسلامی سنت نبوی ؐ پر عمل کرتے ہوئے استقبال رمضان کا اہتمام کرتی ہے،رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ہمیں رمضان کی تیاریاں بھرپور طریقہ سے کرنی چاہیے اور برائیوں سے اجتناب اورنیک کوفروغ دینا چاہیے۔ یہ بات جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری ضلع شمالی شکیل احمد نے جماعت اسلامی خداکی بستی کے تحت جی سی ٹی ہلال اسکول خدا کی بستی میں استقبال رمضان کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ناظم علاقہ خداکی بستی نے کہا کہ رمضان المبارک ساری مہینوں کا سردار ہے اور یہ مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس کی آ مد کی جتنی اچھی تیاری کی جائے کم ہے۔ ناظم علاقہ تیسر ٹائون علامہ فضل الحق نے کہاکہ روزہ اللہ کیلیے ہے اس کا بہترین اجردے گا۔ شکیل احمد نے مزید کہا کہ روزہ گناہوں کے آ گے ڈھال کا کام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رمضان میں شیاطین کوقید کردیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن وسنت کے ذریعہ دین و دنیا کی رہنمائی کی ہے، اسی کی پیروی میں ہماری نجات ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے خلاف جوقوتیں سرگرم عمل ہیں جماعت اسلامی عوام کے حق کے لیے بات کرتی ہے۔14 فروری سندھ اسمبلی پر دھرنا بہر صورت ہوگا، وہ اپنے مذموم مقاصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے اور جماعت اسلامی قائم ودائم رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔