کورنگی سروس روڈ پرغیر قانونی فوڈ اسٹریٹ ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ/ آئینی بینچ کورنگی میں سروس روڈ پر غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ کے قیام کے خلاف درخواست کی سماعت‘ عدالت نے دو ہفتے میں فوڈ اسٹریٹ ختم کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ فوڈ اسٹریٹ کے خلاف درخواست لئیق کوہستانی ایڈووکیٹ نے دائر کی۔ درخواست میں وزارت بلدیات، ٹاؤن ناظم کورنگی ٹاؤن، ڈپٹی کمشنر کورنگی اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست گزار کے و کیل کاکہنا تھا کہ سروس روڈ ٹریفک کی روانی کیلیے ضروری ہے۔ اس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ ٹاؤن انتظامیہ کو سروس روڈ کی حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔ سروس روڈ کے خاتمے سے ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے نقصان میں اضافہ ہوگا۔ ٹائون انتظامیہ کاکہناتھا کہ عوام کی سہولت کیلیے فوڈ اسٹریٹ قائم کی گئی ہے۔ فوڈ اسٹریٹ میں 144 عارضی دکانیں/ اسٹالز قائم ہیں۔ عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد فوڈ اسٹریٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا حکم دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فوڈ اسٹریٹ سروس روڈ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔