ٹنڈوجام میں8 روز سے لاپتا نوجوان کی لاش پانی کی ٹنکی سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ٹنڈوجام میں8 روز سے لاپتا نوجوان کی لاش پانی کی ٹنکی سے برآمد ،اطلاع ملنے پر ٹنڈوجام پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کیلیے سول اسپتال حیدرآباد منتقل کرکے ابتدائی تفتیش شروع کردی ۔تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام کے قریبی علاقے موسی کھٹیان کے قریب پاشا فارم سے8 روز سے لاپتا نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ اطلاع ملنے پر ٹنڈوجام پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیا ،نوجوان کی شناخت گلشیر عرف گلن کھوسو کے نام سے ہوئی ہے۔ اس حوالے سے ٹنڈوجام پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی نوجوان گزشتہ8روز سے لاپتا تھا، اس کے لواحقین کی جانب سے ٹنڈوجام تھانہ میں گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق فارم کے ملازمین نے پانی کی ٹنکی سے آواز آنے کے بعد انہیں اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر وہ موقع پر پہنچ گئے اور نوجوان کی لاش کو پانی کی ٹنکی سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر کہا ہے کہ لاش چند دن پرانی ہے جبکہ پولیس نے واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد بتایا کہ لاش چند دن پرانی ہے اور ہم مزید معلومات کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی نوجوان کی موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی ٹنکی سے نوجوان کی لاش پوسٹ مارٹم سے لاپتا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔