Juraat:
2026-07-24@00:57:39 GMT

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

منظر نامہ
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

سندھ صدیوں تک علم، فہم اور فکری بالیدگی کی علامت رہا ہے ۔ یہ وہ دھرتی ہے جہاں درسگاہیں صرف تعلیمی عمارتیں نہیں بلکہ سماجی شعور، تہذیبی تسلسل اور اخلاقی تربیت کے مراکز سمجھی جاتی تھیں۔ یہاں علم کو محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان سازی، شعور کی بیداری اور معاشرتی توازن کا بنیادی وسیلہ تصور کیا جاتا تھا۔ موئن جو دڑو سے لے کر بھٹائی کے افکار تک، سندھ کی فکری روایت ہمیشہ سوال، مکالمے اور بصیرت سے جڑی رہی ہے ۔ مگر آج کا سندھ ایک ایسے گہرے تعلیمی بحران سے دوچار ہے جس نے نہ صرف تعلیمی معیار کو کمزور کر دیا ہے بلکہ طلبہ، اساتذہ اور اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے ، اور اس بحران کے اثرات سماج کے ہر شعبے میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی موجودہ صورتِ حال اس بحران کی عملی تصویر ہے ۔ بیشتر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ کلاس روم خالی پڑے ہیں، لیبارٹریاں خاموش ہیں، کتب خانے غیر فعال ہو چکے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں محض رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کئی اداروں میں اساتذہ کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہے ، مگر اس اضافی تعداد کے باوجود تعلیمی نتائج میں کوئی خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ یہ تضاد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ناقص انتظام، کمزور نگرانی اور غیر سنجیدہ پالیسی سازی کا ہے ، جہاں تعداد کو معیار پر ترجیح دی گئی ہے ۔انتظامی ڈھانچے کی کمزوری اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے ۔ متعدد اسکولوں اور کالجوں میں اہم انتظامی آسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث روزمرہ امور، نظم و ضبط، حاضری کی نگرانی اور تعلیمی منصوبہ بندی شدید متاثر ہو رہی ہے ۔ جب اداروں میں فیصلہ سازی کا نظام ہی مفلوج ہو جائے تو اس کے اثرات براہِ راست تدریسی عمل پر پڑتے ہیں۔ انتظامی خلا نے تعلیمی اداروں کو ایک ایسی کشتی بنا دیا ہے جس کا نہ کوئی واضح رخ ہے اور نہ کوئی مضبوط ناخدا، نتیجتاً احتساب کا تصور بھی کمزور پڑ چکا ہے ۔
تعلیم کے زوال کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اسے قومی ترجیح کے بجائے ایک رسمی فریضہ سمجھ لیا گیا ہے ۔ امتحان پاس کرنا ہی کامیابی کا واحد معیار بن چکا ہے ، جبکہ سیکھنے ، سمجھنے ، سوال اٹھانے ، تحقیق کرنے اور تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی تقریباً ختم ہو گئی ہے ۔ رٹّا سسٹم نے طلبہ کی تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہے ، جس کے باعث تعلیم ایک بوجھ محسوس ہونے لگی ہے ۔ طلبہ اسکول یا کالج آنا اپنی ضرورت کے بجائے ایک مجبوری سمجھتے ہیں، اور یہی احساس رفتہ رفتہ حاضری میں کمی اور تعلیمی لاتعلقی کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔
اساتذہ کسی بھی تعلیمی نظام کی بنیاد اور روح ہوتے ہیں، مگر سندھ میں اساتذہ کے کردار کو بھی غیر جانبداری سے پرکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک غیر ذمہ دار استاد صرف ایک کلاس کو نہیں بلکہ کئی نسلوں کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ تدریس کو اکثر ایک محفوظ سرکاری ملازمت سمجھ لیا گیا ہے ، جہاں حاضری، تیاری اور طلبہ کی فکری نشوونما ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔ اگر اضافی اساتذہ کی موجودگی کے باوجود طلبہ کی تعلیمی حالت بہتر نہیں ہو رہی تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ تربیت، مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، نگرانی اور احتساب کے نظام میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔والدین کے کردار کو نظرانداز کرنا بھی تعلیمی زوال کی ایک اہم وجہ ہے ۔ تعلیم کو صرف اسکول یا کالج کی ذمہ داری سمجھ لینا ایک سنگین فکری غلطی ہے ۔ بچے کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں گھر کا ماحول فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے ۔ اس تناظر میں یہ بے حد ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور والدین کے درمیان ماہوار ملاقاتوں کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جائے ، جہاں طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی، رویّے اور کمزوریوں پر مبنی جامع جائزہ والدین کے سامنے رکھا جائے ۔ والدین کی فعال شمولیت کے بغیر کسی بھی تعلیمی اصلاح کو پائیدار بنانا ممکن نہیں۔
سیاست کی مداخلت نے بھی سندھ کے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ تقرریوں، تبادلوں اور پالیسی فیصلوں میں غیر تعلیمی عوامل کا اثر اداروں کی خود مختاری کو کمزور کر دیتا ہے ۔ سفارش، دباؤ اور ذاتی مفادات پر مبنی فیصلے تعلیمی معیار کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ جب تعلیم سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو جائے تو علمی اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو سیاست سے پاک کیے بغیر کسی بھی اصلاح کی کامیابی ممکن نہیں۔نصاب کا مسئلہ اس پورے منظرنامہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ دنیا بھر میں تعلیم جدید تقاضوں، سائنسی ترقی اور عملی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے ، جبکہ ہمارا تعلیمی نظام اب بھی کئی حوالوں سے دقیانوسی سوچ کا شکار ہے ۔ مصنوعی ذہانت اور اے آئی کے اس دور میں، جہاں ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو تحقیق، اختراع، ڈیٹا اینالیسس اور ڈیجیٹل مہارتوں سے جوڑ چکے ہیں، سندھ کا نصاب اب بھی زیادہ تر یادداشت اور امتحان تک محدود ہے ۔ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے بجائے انہیں ماضی کے طریقوں میں الجھائے رکھا جا رہا ہے ۔مصنوعی ذہانت آج تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی کردار ادا کر رہی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کی مدد سے ذاتی نوعیت کی تعلیم، طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ، کمزور پہلوؤں کی نشاندہی، اساتذہ کی معاونت اور تحقیق کے نئے دروازے کھل چکے ہیں۔ اگر سندھ کے تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کو دانش مندی کے ساتھ شامل کیا جائے تو نہ صرف تدریسی معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ طلبہ کی دلچسپی، حاضری اور سیکھنے کا عمل بھی مؤثر بنایا جا سکتا ہے ۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اے آئی استاد کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ذریعہ ہے ، جو انسانی فہم اور اخلاقی رہنمائی کے بغیر نامکمل ہے ۔
ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اب آسائش نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے ۔ ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز، آن لائن کتب خانے ، جدید لیبارٹریز اور تحقیق پر مبنی تدریسی طریقے ہی وہ راستے ہیں جو سندھ کے تعلیمی معیار کو عالمی سطح کے قریب لا سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، تنقیدی شعور، مقامی زبان، تاریخ اور تہذیب کو بھی نصاب میں مضبوط مقام دینا ہوگا، تاکہ طلبہ جدید دنیا سے جڑتے ہوئے اپنی شناخت سے کٹے نہیں۔
سندھ میں تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ طلبہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے مؤثر نظام، والدین کی شمولیت اور ترغیب پر مبنی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ اساتذہ کی تقرریوں اور تعداد کا ازسرِنو جائزہ لے کر معیار کو ترجیح دینی ہوگی، جبکہ انتظامی آسامیاں فوری طور پر پُر کر کے اداروں کے نظم و نسق کو مستحکم بنانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل کا حصہ بناتے ہوئے اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی، تاکہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے کا مؤثر حصہ بن سکیں۔تعلیم محض ایک سرکاری شعبہ نہیں بلکہ قوم کے فکری، اخلاقی اور معاشی مستقبل کی بنیاد ہے ۔ اگر آج ہم نے دیانت، بصیرت اور دور اندیشی کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کا آغاز نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ سندھ جیسی فکری طور پر زرخیز سرزمین اس زوال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم تعلیم کو رسمی فریضے کے بجائے قومی ترجیح بنائیں، اور علم، تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے سندھ کو ایک بار پھر شعور، دانائی اور فکری قیادت کی پہچان بنائیں۔
سندھ کے تعلیمی بحران سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جزوی اصلاحات یا وقتی اعلانات اس گہرے مسئلے
کا حل نہیں بن سکتے ، بلکہ اس کے لیے ایک ہمہ جہت، دیانت دار اور طویل المدتی حکمتِ عملی درکار ہے ۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کی
حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کے ساتھ ساتھ ترغیبی نظام متعارف کرانا ہوگا، جہاں باقاعدگی سے آنے والے طلبہ کو تعلیمی، سماجی
اور مالی سطح پر حوصلہ افزائی ملے ، جبکہ غیر حاضری کو سنجیدہ مسئلہ سمجھا جائے ۔ اساتذہ کی تقرریوں اور تعیناتیوں کو مکمل طور پر میرٹ اور ضرورت
سے مشروط کرنا ہوگا، تاکہ اضافی عملے کے بوجھ کے بجائے معیاری تدریس کو فروغ دیا جا سکے ، اور اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی مسلسل
تربیت، کارکردگی کی جانچ اور احتساب کو نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ انتظامی آسامیاں فوری طور پر پُر کر کے اسکولوں اور کالجوں میں فیصلہ
سازی کا مؤثر نظام قائم کرنا ناگزیر ہے ، تاکہ نظم و ضبط، منصوبہ بندی اور تعلیمی اہداف واضح ہو سکیں۔ نصاب میں اصلاحات کے ذریعے رٹّا
سسٹم کی حوصلہ شکنی اور تحقیق، سوال، مکالمے اور عملی مہارتوں کو فروغ دینا ہوگا، جبکہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو تدریسی عمل میں اس
انداز سے شامل کرنا ہوگا کہ یہ استاد کی معاون بنے ، متبادل نہیں۔ والدین اور اساتذہ کے درمیان باقاعدہ رابطے کو ادارہ جاتی شکل دے کر
طلبہ کی تعلیمی اور اخلاقی نشوونما کو مشترکہ ذمہ داری بنایا جائے ، اور تعلیم کو سیاست، سفارش اور ذاتی مفادات سے پاک کر کے علمی خود مختاری کو
یقینی بنایا جائے ۔ اسی تسلسل میں سندھی زبان، تاریخ اور تہذیب کو جدید سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کر کے نصاب کا حصہ بنانا
ہوگا، تاکہ طلبہ عالمی معیار سے جڑتے ہوئے اپنی شناخت اور فکری جڑوں سے وابستہ رہیں، اور یوں تعلیم واقعی سندھ کے مستقبل کی تعمیر کا
ذریعہ بن سکے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اسکولوں اور کالجوں سندھ کے تعلیمی طلبہ کی حاضری مصنوعی ذہانت تعلیمی نظام اور تعلیمی اور تعلیم اساتذہ کی تعلیم کو معیار کو بنایا جا کی تعلیم کے بجائے کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن