data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک روسی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کبوتروں کو نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے حیاتیاتی ڈرونز میں تبدیل کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو کمپنی نے ’بائیو ڈرون‘ کا نام دیا ہے، جسے مستقبل کی نگرانی اور جاسوسی ٹیکنالوجی قرار دیا جا رہا ہے۔

روسی کمپنی Neiry Group کے مطابق کبوتروں کے دماغ میں خصوصی امپلانٹس نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان کی پرواز کے راستوں کو دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ برقی سگنلز کے ذریعے کبوتروں کو مخصوص سمت میں موڑا جا سکتا ہے، بغیر کسی پائلٹ یا روایتی تربیت کے۔

ان کبوتروں کو جدید چھوٹے کیمروں، جی پی ایس نظام اور سولر پاور کنٹرول یونٹس سے بھی لیس کیا گیا ہے، جس کے ذریعے وہ روایتی ڈرونز کی طرح براہِ راست ویڈیو اور ڈیٹا فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ بائیو ڈرونز شہری اور محدود فضائی علاقوں میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

Neiry Group کے مطابق کبوتروں کی قدرتی پرواز انہیں عام ڈرونز کے مقابلے میں کم مشکوک بناتی ہے جب کہ ان کی طویل پرواز کی صلاحیت انہیں نگرانی کے لیے زیادہ موزوں بناتی ہے۔ تاہم ماہرین اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی، قانونی اور ماحولیاتی اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ابھی تک اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال یا سرکاری منظوری کے حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم یہ دعویٰ عالمی سطح پر عسکری اور ٹیکنالوجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان