پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک میں آئی ٹی سمیت تمام جدید علوم کے فروغ میں کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ابھرتی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کیلئے پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کا انعقاد کیا۔
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے خطاب میں جدید ابھرتی ٹیکنالوجی پرروشنی ڈالی۔ ڈاکٹرراجہ علی رضا انور نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی اب تیزی سے ایک تبدیلی کی قوت بنتی جارہی ہے جو کل کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہے۔
https://dailymumtaz.
انہوں نے کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کا مقصد روایتی کمپیوٹنگ سسٹمز کی جگہ لینا نہیں بلکہ ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
ڈائریکٹرجنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپڑانکس ڈاکٹرمنظوراکرام نے کہا کہ ایونٹ کا مقصد ٹیکنالوجی پرآگہی پیدا کرنا اور عالمی چیلنجوں کے حل کیلئے کوانٹم الگورتھمزتیارکرنا تھا۔
ایونٹ میں کوانٹم الگورتھمز استعمال کرکے ٹی بی کی جلد تشخیص کیلئے حل تیار کرنے والی ٹیم کو8لاکھ روپے نقد کا پہلا انعام دیا گیا۔
ایونٹ کے اختتام پرشرکاء نے اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سائنسی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کوانٹم کمپیوٹنگ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔