پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیراہتمام پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ملک میں آئی ٹی سمیت تمام جدید علوم کے فروغ میں کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ابھرتی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کیلئے پہلی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکا تھون کا انعقاد کیا۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے خطاب میں جدید ابھرتی ٹیکنالوجی پرروشنی ڈالی۔ ڈاکٹرراجہ علی رضا انور نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی اب تیزی سے ایک تبدیلی کی قوت بنتی جارہی ہے جو کل کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہے۔
https://dailymumtaz.

com/wp-content/uploads/2026/02/hackathon.mp4

انہوں نے کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کا مقصد روایتی کمپیوٹنگ سسٹمز کی جگہ لینا نہیں بلکہ ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔

ڈائریکٹرجنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپڑانکس ڈاکٹرمنظوراکرام نے کہا کہ ایونٹ کا مقصد ٹیکنالوجی پرآگہی پیدا کرنا اور عالمی چیلنجوں کے حل کیلئے کوانٹم الگورتھمزتیارکرنا تھا۔

ایونٹ میں کوانٹم الگورتھمز استعمال کرکے ٹی بی کی جلد تشخیص کیلئے حل تیار کرنے والی ٹیم کو8لاکھ روپے نقد کا پہلا انعام دیا گیا۔

ایونٹ کے اختتام پرشرکاء نے اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سائنسی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کوانٹم کمپیوٹنگ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن