پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم پیش رفت WhatsAppFacebookTwitter 0 10 February, 2026 سب نیوز
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کے اسپیکر صقر غباش سے اہم ملاقات۔
ابوظہبی) پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دیرینہ، مضبوط اور برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے چیئرمین سینیٹ پاکستان، جناب سید یوسف رضا گیلانی نے آج ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کے اسپیکر، صقر غباش سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد دونوں معزز رہنماؤں کے اعزاز میں ایک گرمجوش اور دوستانہ ظہرانہ بھی دیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان موجود گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جو باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور طویل المدتی تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی نمایاں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو سراہا۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسپیکر صقر غباش کا پرتپاک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کی معاشی استحکام میں متحدہ عرب امارات کے مثبت اور مؤثر کردار کو سراہا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مضبوط شراکت داری کی واضح مثال قرار دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر اسپیکر فیڈرل نیشنل کونسل کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی، جسے اسپیکر صقر غباش نے خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور نئے شعبوں میں اشتراک کے مواقع تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ملاقات میں پارلیمانی سفارت کاری، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ ملاقات پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان موجود گہرے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث ثابت ہو گی اور دونوں ممالک نے مستقبل میں دوطرفہ تعاون کو مزید اور موثر فروغ ملے گا۔روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایڈووکیٹ سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، عمران خان کی جیل میں حالت کی رپورٹ دیں، سپریم کورٹ ایڈووکیٹ سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، عمران خان کی جیل میں حالت کی رپورٹ دیں، سپریم کورٹ ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل اسرائیلی صدر کا دورہ آسٹریلیا، سڈنی اور میلبورن میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت دادو میہڑ میں پولیس موبائل پر ڈاکؤوں کی فائرنگ سے 3 اہلکار شہید ایپسٹین فائلز : برطانوی وزیراعظم کے استعفے کی قیاس آرائیاں تیزCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تعلقات
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ