data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا بھر میں برسوں سے یہ تصور عام ہے کہ اچھی صحت اور فٹنس کے لیے روزانہ کم از کم 10 ہزار قدم چلنا ضروری ہے، تاہم ایک نئی طبی تحقیق نے اس خیال کو چیلنج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سے کہیں کم قدم چلنے سے بھی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 4 ہزار قدم چلنا دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے اور لمبی عمر کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق یورپین جرنل آف پریوینٹیو کارڈیالوجی میں شائع ہوئی، جس میں 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی 17 مختلف تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

ان رپورٹس میں روزانہ چلنے والے قدموں کی تعداد اور امراض قلب سمیت کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ صحت مند زندگی کے لیے کتنی جسمانی سرگرمی واقعی ضروری ہے۔

محققین کے مطابق نتائج سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے روزانہ 4 ہزار قدم چلنا کافی ہے۔ اس مقدار کے قدم باقاعدگی سے چلنے والے افراد میں نہ صرف مجموعی صحت بہتر دیکھی گئی بلکہ ان میں دل کے امراض کا خدشہ بھی نمایاں حد تک کم پایا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ زیادہ قدم چلنے سے فوائد میں اضافہ ہوتا ہے، مگر کم قدم چلنے کو بے فائدہ سمجھنا درست نہیں۔

تحقیق کے مطابق دل کی بیماریوں کے خطرے میں کمی کا عمل تو روزانہ محض 2300 قدم چلنے سے ہی شروع ہو جاتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معمولی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ جو افراد روزانہ اضافی ایک ہزار قدم بڑھا لیتے ہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ مزید 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جبکہ اضافی 500 قدم چلنے سے امراض قلب کا خطرہ تقریباً 7 فیصد کم ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں عمر کے لحاظ سے بھی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ نتائج کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو روزانہ 6 سے 10 ہزار قدم چلنے سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے جب کہ 60 سال سے کم عمر افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد کے حصول کی حد 7 سے 13 ہزار قدم تک ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ہر فرد کے لیے جسمانی سرگرمی کی مقدار اس کی صحت، عمر اور طرزِ زندگی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کو مشکل یا ناقابلِ حصول ہدف نہ سمجھا جائے۔

اگر کوئی شخص روزانہ 10 ہزار قدم نہیں بھی چل سکتا تو کم قدم چل کر بھی وہ اپنی صحت میں واضح بہتری لا سکتا ہے۔ مستقل مزاجی کے ساتھ معمولی چہل قدمی بھی دل کی صحت بہتر بنانے، توانائی میں اضافہ کرنے اور لمبی عمر کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قدم چلنے سے قدم چلنا کے مطابق کے خطرے کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار