فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اور کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیں: غیر قانونی کرنسی ایکسچینج  میں ملوث ملزم گرفتار، ڈالرز اور موبائل فونز برآمد

گرفتار ملزمان میں سہیل اور سہروش شامل ہیں، جنہیں ناظم آباد اور گارڈن ایسٹ کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا غیر قانونی کاروبار کر رہے تھے۔

کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی، جس میں 20050 امریکی ڈالر، 2170 برطانوی پاؤنڈ، 1000 یورو، 8001 قطری ریال، 13600 چینی یوآن، 7800 سعودی ریال، 2000 ترک لیرا، 1300 یو اے ای درہم، 81 بحرینی دینار، 465 ملائیشین رنگٹ، 50 آسٹریلین ڈالر اور 59 لاکھ 33 ہزار سے زائد پاکستانی روپے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: غیر قانونی کرنسی ایکسچینج  میں ملوث ملزم گرفتار

اس کے علاوہ ملزمان سے موبائل فونز اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج سے متعلق شواہد بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف آئی اے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کمرشل بینکنگ سرکل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کمرشل بینکنگ سرکل غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار