اسلام آباد ،ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں ای اسٹامپنگ سسٹم نافذ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد( ملک نجیب ) ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت میں ای اسٹامپنگ سسٹم نافذ کر دیا ۔ 26 جنوری 2026 سے سٹامپ فروشوں یا عام عوام کو عدالتی و غیر عدالتی اسٹامپ پیپرز جاری نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اور ضلع اسلام آباد میں ای-اسٹامپنگ سسٹم کے نفاذ کے پیشِ نظر نیا حکم نامپ جاری کر دیا گیا ہے ۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد میں کام کرنے والے تمام اسٹامپ فروشوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود مینول عدالتی و غیر عدالتی اسٹامپ پیپرز کا موجودہ اسٹاک 12 فروری 2026 (جمعرات) تک مکمل طور پر ختم کر لیں۔ 13 فروری جمعہ کو تمام اسٹامپ فروش اپنی اسٹامپ وینڈر رجسٹرز بمعہ ربڑ اسٹامپس، بلا کسی کوتاہی کے، دفتر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو / ضلع کلکٹر، اسلام آباد میں جمع کرائیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے اندر کوئی بھی محکمہ، دفتر، عدالت یا اتھارٹی کسی بھی صورت میں مینول عدالتی یا غیر عدالتی اسٹامپ پیپرز قبول نہیں کرے گی ۔ مذکورہ بالا ہدایات کی خلاف ورزی یا عدم تعمیل کی صورت میں خلاف ورزی کا مرتکب فرد متعلقہ قوانین و قواعد کے تحت سخت قانونی کارروائی کا ذمہ دار ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔