امریکی وزارت خارجہ کا ایرانی عوام کے نام پیغام
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
تہران کیساتھ مذاکرات کے دوران جاری ہونیوالے اپنے ایک فارسی پیغام میں امریکی وزارت خارجہ نے ایران پر مزید "دباؤ" ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا اور دعوی کیا ہے کہ ایران کیخلاف حالیہ امریکی پابندیوں کا مقصد "ایرانی عوام کی مدد" ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی وزارت خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایرانی مصنوعات کی خریداری کرنے والے ممالک پر مزید محصولات کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ ایک ایسے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے والے ہیں کہ جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ (ایران) کی حکومت کا مقابلہ کرنا اور ایسے ممالک پر مزید محصولات عائد کرنا ہے کہ جو ایران سے اشیاء یا خدمات کی خریداری اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے خود کو "ایرانی عوام کا حامی" ظاہر کرتے ہوئے مزید لکھا کہ ان اقدامات کا مقصد "ایرانی عوام کی مدد" ہے۔
واضح رہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر نے واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے چند گھنٹے بعد ہی، ہفتے کی صبح ایک بار پھر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جبکہ اس حوالے سے جاری ہونے والا ایگزیکٹو آرڈر، امریکہ کو ان ممالک سے درآمد شدہ اشیاء پر اضافی محصولات عائد کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے کہ جو ایران سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اشیاء یا خدمات خریدتے ہیں۔
ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ واشنگٹن، اس وقت نہ صرف ایران میں موجود اپنی "پیدل فوج" کو ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آنے اور وسیع ہنگاموں پر اُکسانے میں مصروف ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ مغربی ایشیا میں مزید فوجی دستے اور جنگی ساز و سامان کی تعیناتی نیز اقتصادی دباؤ کے ذریعے تہران کو، اپنی مرضی کے معاہدے پر بلا چون و چرا دستخط کر دینے پر مجبور بھی کر دینا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی وزارت خارجہ ایرانی عوام
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔