آبنائے ہرمز: امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.
یہ ہدایات واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔
امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے.
ہدایات کے مطابق زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہوا۔
بحری راستوں کو درپیش خطراتعالمی بحری راستے اور تجارتی جہاز ماضی میں بھی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی زد میں رہے ہیں، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں۔ 1980 کی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جسے بعد ازاں ’ٹینکر وار‘ کے نام سے جانا گیا۔
حالیہ برسوں میں یمن کی حوثی تنظیم نے بحیرہ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے کیے، جن کے بارے میں گروپ کا کہنا تھا کہ یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
گزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: قتل کی دھمکیوں پر واشنگٹن اور تہران آمنے سامنے، جنگ کے بادل منڈلانے لگے
امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا۔
بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔
مزید پڑھیں: ایران یورینیم افزودگی پر مؤقف پر قائم، امریکا کا دباؤ اور عسکری پیغامات تیز
واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
جوہری مذاکرات کا پس منظردوسری جانب جوہری مذاکرات بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم عنصر بنے ہوئے ہیں، دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا حملہ کرے گا۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
جون 2025 کی جنگ کے دوران امریکی افواج نے ایران کی 3 بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، یہ جنگ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تھی جبکہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری معاملات تک محدود ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں حزب اللہ اور حماس جیسے غیر ریاستی عناصر کی حمایت پر بھی بات چیت کا خواہاں ہے، یورینیم کی افزودگی ایک بڑا تنازعہ بنی ہوئی ہے؛ جسے ایران اپنا خودمختار حق قرار دیتا ہے جبکہ امریکا افزودگی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز ایران تہران ڈونلڈ ٹرمپ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میزائل پروگرام واشنگٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران تہران ڈونلڈ ٹرمپ متحدہ عرب امارات میزائل پروگرام واشنگٹن تجارتی جہاز مزید پڑھیں جہازوں کو ایران کے جنگ کے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔