پاکستان نے کمزور ہوکر بھی شرائط منوالیں، نہ چاہتے ہوئے ان سے ملنا پڑے گا: بھارتی میڈیا پر واویلا مچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد بھارت میں واویلا مچ گیا۔بھارتی میڈیا پر شائع رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ورلڈ کرکٹ پاکستان کےبغیر نہیں چل سکتی، ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے ہاتھ ملانا پڑے گا اور گلے ملنا پڑے گا۔بھارت میڈیا نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان نے سفارتی و اسٹریٹیجک طریقے سے بنگلادیش کوجیت لیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کمزور ہوکر بھی شرائط منوالی، یہ ہندوستان کی بےعزتی ہے۔اس کے علاوہ بھارتی میڈیا نے حارث روف کے اشارے کا حوالہ بھی دیا۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے قومی ٹیم کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا پاکستان نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔