آسام کے وزیر اعلیٰ کی ویڈیو پر ہنگامہ، اپوزیشن نے مسلم نسل کشی کی دعوت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
بھارت میں ہندوتوا نظریے، بی جے پی کی سیاست اور مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم ایجنڈے پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا سوچ اب محض ایک نظریہ نہیں رہی بلکہ اسے ریاستی پالیسی کی شکل دی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست نشانہ ملک کی مسلم اقلیت بن رہی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما مسلمانوں کی تصاویر پر فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دیوار پر نصب تصویر پر “No Mercy” (کوئی رحم نہیں) کے الفاظ بھی درج تھے، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “نسل کشی کی دعوت” قرار دیا ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ آسام کی اس ویڈیو کو محض سوشل میڈیا مواد قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے نفرت اور تشدد کو ہوا ملتی ہے۔
https://dailymumtaz.
اپوزیشن رہنماؤں نے یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل بھی آسام کے وزیر اعلیٰ پر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور اقدامات کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی قیادت دانستہ طور پر مذہبی نفرت کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی سیاست میں انتہا پسندی بڑھتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات اور ویڈیوز نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ بھارت میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے احساس کو بھی مزید گہرا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر اعلی کے مطابق رہی ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان