دہشتگردی کے خلاف سیاسی اختلافات بھلا کر یکجا ہونے کی ضرورت ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سیاسی اختلافات بھلا کر یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد حملے سےمتعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہیں نہ کہیں سکیورٹی بریچ ہوتی ہے،ہمیں سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشتگردی میں شہید اور زخمی افراد کی فیملیز کے لیےحکومت امدادی پیکج کا اعلان کرے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا ہماری فوج ، پولیس اور عوام دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑرہے ہیں ،ایمان ہے کہ ہم ان دہشتگردوں کو شکست دیں گے اورتمام مشکلات پر ضرور قابو پائیں گے۔
انڈونیشیا نے ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ فوج بھیجنے کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔