ایران امریکہ مذاکرات، کیا تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: موجودہ صورتحال محض ایران اور امریکہ کا تنازعہ نہیں رہی۔ یہ دراصل بدلتے ہوئے عالمی نظام، کمزور پڑتی یک قطبی طاقت اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی توازن کی جھلک ہے۔ ایران اپنے بیانیے میں اسے "مزاحمت کی کامیابی" قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے "ڈیٹرنس اور ڈپلومیسی" کا امتزاج کہتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے بیچ میں کہیں موجود ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے: یہ مذاکرات کم، طاقت، صبر اور اعصاب کی جنگ زیادہ ہے اور اس کھیل میں معمولی غلطی بھی خطے کو آگ میں جھونک سکتی ہے اور رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے مطابق "امریکی یہ بھی جان لیں کہ اگر اس بار انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ جنگ، ایک علاقائی جنگ ہوگی۔" تحریر: سید انجم رضا
ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات سے کسی حوصلہ افزا پیش رفت کی خبر سامنے نہیں آئی۔ بظاہر سفارتکاری جاری ہے، مگر خطے کی فضا اب بھی کشیدہ ہے اور جنگ کے بادل پوری شدت سے منڈلا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک سوال سب سے نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کیا یہ واقعی مذاکرات ہیں یا آنیوالے کسی بڑے تصادم سے پہلے کی پوزیشننگ؟ ایرانی قیادت، بالخصوص رہبر معظم کا امریکی دھمکیوں کے باوجود ثابت قدم رہنا، تہران کے سیاسی مزاج کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن اور اس کے حلیفوں کی جانب سے برسوں کی اقتصادی پابندیوں، دباؤ، دھمکیوں اور عسکری موجودگی کے باوجود ایران کو مذاکرات کی میز پر جھکایا نہیں جا سکا۔ اس کے برعکس امریکہ کا خود مذاکرات کی میز پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
جون 2025 کی کشیدگی کے بعد منظرنامہ:
گذشتہ برس جون 2025ء کی جارحانہ کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو وہ اسٹریٹجک نتائج حاصل نہ ہوسکے، جن کی انہیں توقع تھی۔ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام نہ صرف جاری ہے بلکہ تہران یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ اس کی سائنسی اور دفاعی پیش رفت دباؤ سے نہیں رکے گی۔ اسی تناظر میں امریکی بحری بیڑے، خصوصاً ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کی خطے میں موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا یہ طاقت کا مظاہرہ ہے؟، نفسیاتی دباؤ؟
یا ممکنہ عسکری آپشن کو میز پر رکھنے کی کوشش۔؟
امریکہ کی اصل پریشانی، میزائل پروگرام
موجودہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ بظاہر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ہے۔ امریکی وفد کی جانب سے رجیم چینج کی بات کم اور میزائل پروگرام کو رول بیک کرنے پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی مؤقف واضح ہے کہ دفاعی صلاحیت، خاص طور پر میزائل پروگرام، ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ ایرانی میڈیا اور تجزیہ کار خرم شہر جیسے میزائلوں کو اسٹریٹجک توازن کا ستون قرار دیتے ہیں۔ تہران کے نزدیک یہی وہ عنصر ہے، جس نے اسرائیل کی "ناقابلِ تسخیر" ہونے کے زعم اور تکبر کو چیلنج کیا اور اسے پہلی بار دفاعی پوزیشن میں دھکیلا۔
مذاکرات کا انداز اور عدم اعتماد
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد نے اس بار بھی براہ راست امریکی مذاکرات سے گریز کیا اور عمانی ثالث کے ذریعے بات چیت ہوئی۔ یہ رویہ محض سفارتی انداز نہیں بلکہ گہرے عدم اعتماد کی علامت ہے۔ ایرانی قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ امریکہ اپنے معاہدوں سے انحراف کی تاریخ رکھتا ہے، ماضی میں جوہری معاہدہ سے یکطرفہ امریکی انخلا اس کی واضح مثال ہے۔
نفسیاتی جنگ یا حقیقی خطرہ؟
امریکہ کی سخت زبان، فوجی نقل و حرکت اور میڈیا میں گردش کرتی جنگی قیاس آرائیاں ایک نفسیاتی و اعصابی جنگ کا حصہ بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے میں بڑی طاقتوں کی سرگرمیوں کی خبریں بھی توجہ کھینچتی ہیں۔ خلیج میں چینی بحری موجودگی، روسی عسکری تعاون کی خبریں اور جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے متعلق دعوے۔ اگرچہ ان رپورٹس کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ سب ایک بڑے اسٹریٹجک مقابلے کا تاثر ضرور دیتے ہیں۔
جنگ ہوئی تو؟
یہ بات تقریباً طے سمجھی جا رہی ہے کہ اگر ایران پر کوئی بڑا حملہ ہوا تو وہ محدود نہیں رہے گا۔ ایران کی جغرافیائی، عسکری اور علاقائی نیٹ ورکنگ اسے ایک ایسے فریق میں بدل چکی ہے، جس کے خلاف کارروائی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ توانائی کی گزرگاہیں، عالمی تجارت اور بڑی طاقتوں کی ساکھ۔۔۔۔ سب داؤ پر لگ سکتے ہیں۔
مذاکرات یا طاقت کا نیا توازن؟ یا تیسری عالمی جنگ؟
موجودہ صورتحال محض ایران اور امریکہ کا تنازعہ نہیں رہی۔ یہ دراصل بدلتے ہوئے عالمی نظام، کمزور پڑتی یک قطبی طاقت اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی توازن کی جھلک ہے۔ ایران اپنے بیانیے میں اسے "مزاحمت کی کامیابی" قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے "ڈیٹرنس اور ڈپلومیسی" کا امتزاج کہتا ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے بیچ میں کہیں موجود ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے: یہ مذاکرات کم، طاقت، صبر اور اعصاب کی جنگ زیادہ ہے اور اس کھیل میں معمولی غلطی بھی خطے کو آگ میں جھونک سکتی ہے اور رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے مطابق "امریکی یہ بھی جان لیں کہ اگر اس بار انھوں نے جنگ شروع کی تو وہ جنگ، ایک علاقائی جنگ ہوگی۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میزائل پروگرام ہے اور اور اس
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔