بسنت منانا جرم نہیں، عمران خان جیل میں ہیں تو کیا ہم نے کھانا چھوڑ دیا؟ نورین نیازی کا تنقید پر جواب
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی نے حالیہ دنوں میں بسنت کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حسان نیازی اور عمران خان جیل کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔
صحافی کے سوال پر کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک طرف حسان نیازی اور عمران خان جیل میں ہیں اور دوسری طرف علیمہ خان کا بیٹا بسنت منا رہا ہے نورین نیازی نے جواب دیا کہ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔
میم،بہت سارے لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ ایک طرف آپ کا بیٹا حسان نیازی جو جیل کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں دوسری طرف علیمہ خان صاحبہ کا بیٹا بسنت منا رہا ہے؟سوال
یہ بالکل غلط بات ہے،اب بسنت منائی یا پتنگ اڑا لی تو یہ تنقید کر رہے ہیں یہ غلط حرکت ہے اب اگر عمران خان جیل میں ہیں تو پھر… pic.
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) February 10, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ اب بسنت منائی یا پتنگ اڑا لی تو لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ یہ غلط حرکت ہے۔ پتنگ اڑانا جرم نہیں سب اڑا رہے ہیں۔ اگر عمران خان جیل میں ہیں تو کیا ہم نے کھانا چھوڑ دیا ہے؟ ہم اپنی زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
علیمہ خان نے بھی گزشتہ روز واضح کیا کہ پارٹی کی جانب سے کسی کو بسنت نہ منانے کی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور انہوں نے خود بھی گھر پر پتنگ بازی کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا 6 فروری کو اپنے بچوں کے ساتھ بسنت منا رہا تھا اور ان کا بڑا بیٹا بھی بسنت کا شوقین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کو بسنت منانے سے روکا نہیں تھا، میں نے خود بھی پتنگ بازی کی، علیمہ خان
علیمہ خان نے کہا تھا کہ بسنت کسی پارٹی کے لیے مخصوص نہیں ہے اور لاہور میں ہر بچہ پتنگیں اڑا رہا تھا۔ یہ لاہوریوں کا جنون ہے اور لاہوریوں کو اس سے روکنا تقریباً ناممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت پی ٹی آئی پی ٹی آئی احتجاج حسان نیازی علیمہ خان عمران خان عمران خان اڈیالہ نورین نیازی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی احتجاج حسان نیازی علیمہ خان عمران خان اڈیالہ نورین نیازی عمران خان جیل میں ہیں نورین نیازی حسان نیازی کر رہے ہیں علیمہ خان کا بیٹا ہیں کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.