لائبہ خان کی چھوٹی بہن کا بوائے فرینڈ سے بریک اپ؟ سوشل میڈیا پر چرچے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ لائبہ خان کی چھوٹی بہن اداکارہ ایمان خان کا اپنے بوائے فرینڈ سے بریک اپ ہوگیا ہے جس کی تصدیق خود تیمور نے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کی۔
ایمان خان ایک نوجوان اداکارہ ہیں جو کافی عرصے سے ڈراموں میں کام کر رہی ہیں، انہوں نے کم عمر کرداروں سے سفر شروع کیا اور اب مکمل طور پر مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
وہ اپنے کیریئر میں شاندار کام کر رہی ہیں اور حال ہی میں سوشل میڈیا پر اس وقت ٹرینڈ کر رہی تھیں جب ان کی بہن لائبہ خان کی شادی ہوئی جہاں ایمان خان نے میڈ آف آنر کا کردار ادا کیا۔
تاہم اب ان کی ذاتی زندگی سے متعلق ایک خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
کچھ عرصہ قبل ایمان خان نے ایک خاص شخص کے ساتھ تصاویر شیئر کی تھیں، جس کے بعد مداحوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انہیں محبت مل گئی ہے۔
اُس وقت ان کے پارٹنر نوابزادہ تیمور راحیل تھے، لیکن دونوں کے درمیان معاملات درست نہ چل سکے، اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب تیمور نے سوشل میڈیا پر کچھ تبصرے کیے۔
انسٹاگرام پر تبصروں کا جواب دیتے ہوئے تیمور نے کہا کہ ’میں اب ایمان خان کا تیمور نہیں رہا، اب میں کسی اور کا ہوں‘۔
ایک تبصرے میں جب ان سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایمان کون؟
ادھر ایمان خان بھی اس معاملے کے بعد انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کر رہی ہیں، جن میں وہ مردوں کے رویّوں پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں۔
ایک اسٹوری میں انہوں نے کہا کہ مردوں کا رویہ ہی وجہ ہے کہ اب خواتین گاڑیوں کو زیادہ پسند کرنے لگی ہیں۔
ایک اور اسٹوری میں لکھا ’حد سے زیادہ توجہ ایک گدھے کو بھی یہ سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ شیر ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر کر رہی ہیں ایمان خان
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔