عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل طے کرتے ہوئے آج نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا۔
یہ پلیٹ فارم نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے طویل المدتی ادارہ جاتی وژن کی عملی تعبیر ہے۔
ڈیش بورڈ کے قیام میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے تکنیکی معاونت فراہم کی۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سال نو کے دوران عدالتی اصلاحات کا اعلان
اس کے علاوہ سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور ملک بھر کی ہائی کورٹس کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹس نے بھی منصوبے میں قریبی تعاون کیا۔ یہ ڈیش بورڈ عدالتی پالیسی سازی میں شواہد پر مبنی فیصلوں، شفافیت اور کارکردگی پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینے کا ایک انقلابی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
تقریبِ اجرا میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر (چیئرمین NJAC)، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز، رجسٹرارز، پاکستان بار کونسل کے نمائندگان، سیکریٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن، نیشنل آئی ٹی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور دیگر سینئر عدالتی و تکنیکی حکام بھی موجود تھے۔
افتتاحی کلمات میں جسٹس محمد علی مظہر نے منصوبے کے ارتقائی سفر اور ڈیش بورڈ کی نمایاں خصوصیات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم عدالتی ڈیٹا کو ایک مربوط ریئل ٹائم اینالیٹکس فریم ورک میں یکجا کرتا ہے، جو فیصلہ سازی، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بناتا ہے۔
سیکریٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن نے اپنے خطاب میں بین الادارہ جاتی تعاون کی اہمیت اجاگر کی اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے طرزِ حکمرانی اور شعبۂ انصاف کو مزید مضبوط بنائے گی۔
نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کی باضابطہ نقاب کشائی چیف جسٹس آف پاکستان نے چیئرمین این جے اے سی اور سیکریٹری آئی ٹی کی موجودگی میں کی۔
اس موقع پر ڈیش بورڈ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس میں اس کی تجزیاتی صلاحیتیں، رئیل ٹائم نگرانی کا نظام اور بصری ڈیٹا ڈھانچہ نمایاں طور پر دکھایا گیا۔
اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے ڈیش بورڈ کو عدالتی نظام میں شفافیت، پیش بینی اور کارکردگی کی بہتر نگرانی کا ایک اہم آلہ قرار دیا۔
انہوں نے اس کاوش میں شریک لا اینڈ جسٹس کمیشن، نیشنل آئی ٹی بورڈ اور عدالتی آئی ٹی ٹیمز کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ایک دیرینہ اصلاحاتی وژن کو عملی حقیقت میں بدل کر اسے پائیدار بنایا۔
مزید پڑھیں: نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56 واں اجلاس: عدالتی اصلاحات اور جدید اقدامات پر زور
تقریب میں نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے اراکین اور ڈویلپمنٹ و ڈیزائن ٹیموں کو یادگاری شیلڈز دے کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
یہ نیا ڈیش بورڈ پاکستان کی عدلیہ میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی، جدیدیت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اہم سنگ میل چیف جسٹس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحت لا اینڈ جسٹس کمیشن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اہم سنگ میل چیف جسٹس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحت لا اینڈ جسٹس کمیشن وی نیوز عدالتی اصلاحات نیشنل جوڈیشل ڈیش بورڈ چیف جسٹس آئی ٹی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔