سی ای ایس 2026 امتحانات کا شیڈول، غلط رپورٹنگ پر قانونی کارروائی کی تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان (ایف پی ایس سی) نے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2026 کے امتحانات کے شیڈول پر وضاحت کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ غلط رپورٹنگ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
ایف پی ایس سی کے مطابق 4 سے 15 فروری تک سی ایس ایس 2026 امتحانات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے اور لاہور امتحانی سینٹر کے حوالے سے پروپیگنڈا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور مرکز میں امیدواروں کے لیے جدید سہولیات موجود ہیں۔
شیڈول میں بتایا گیا کہ سی ایس ایس کے لازمی پرچوں کا آغاز صبح 11 بجے مقررہ وقت پر کیا گیا، امیدواروں کو پرچے کے آغاز سے 50 منٹ قبل نشست پر بیٹھنا لازم تھا، مرکزی دروازہ قواعد و ضوابط کے مطابق صبح 10:14 بجے بند کیا گیا۔
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق تاخیر سے آنے والے امیدوار داخل نہیں ہو سکتے تھے، تاخیر سے آمد کے باوجود تمام امیدواروں کو امتحان میں شریک کیا گیا، امتحانی پرچہ مقررہ وقت پر شروع اور ختم کیا گیا۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ ویب سائٹ اور ایڈمیشن سرٹیفکیٹ پر تمام ہدایات واضح درج ہیں، ایم ڈی کیٹ اور دیگر اہم امتحانات میں ایک گھنٹہ قبل نشست کی ہدایت کی جاتی ہے، ایک گھنٹہ قبل نشست کا مقصد پرچے کے آغاز سے پہلے ضروری اقدامات یقینی بنانا ہے۔
ایف پی ایس سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض سی ایس ایس کوچنگ اکیڈمیز سے وابستہ افراد نے واقعے کی غلط رپورٹنگ کی، قواعد و ضوابط کا نفاذ اور پابندی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غلط رپورٹنگ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف پی ایس سی غلط رپورٹنگ سی ایس ایس کیا گیا
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔