ایران کے بحری بیڑے میں شامل پرانے تیل بردار ٹینکرز سمندری حیات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پرانے آئل ٹینکرز عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے سیٹلائٹ ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی نگرانی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔

ماہرین نے ایسے 29 ایرانی ٹینکرز کا تجزیہ کیا جن میں سے آدھے جہاز 20 سال سے زیادہ پرانے یعنی وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سروس لائف مکمل کرچکے ہیں۔

ماہرین نے ان میں سے 7 آئل ٹینکرز کو انتہائی خطرناک قرار دیا جب کہ 3 ٹینکرز 30 سال سے بھی پرانے تھے۔ جن میں سے 5 بہت بڑے خام تیل بردار تھے جن میں تقریبا 3 لاکھ ٹن تیل تک بھی ہوسکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی حادثے یا تصادم کی صورت میں رساؤ سے سمندر میں بہت زیادہ تیل پھیل سکتا ہے جس کے اثرات سمندری حیات، ساحلوں اور انسانی صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

زیادہ تر شیڈو فلیٹ ٹینکرز بیمہ نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں حادثے کے بعد صفائی اور بحالی کے اخراجات متاثرہ ملکوں پر ہی پڑسکتے ہیں جو تقریباً 860 ملین تا 1.

6 بلین ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔

یہ بیڑے بین الاقوامی حفاظتی اور ماحولیاتی معیار پر پورا نہیں اترتے جس سے حادثوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں 50 سے زائد واقعات میں شیڈو فلیٹ ٹینکروں سے تصادم اور تیل کے رساؤ جیسے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں، جس میں تھائی لینڈ، اٹلی، اور میکسیکو کے پانی بھی شامل ہیں۔

روس کے شیڈو بیڑے سے بھی سمندر میں بڑے رساؤ والے حادثات ہوئے ہیں جس سے سمندری ماحول کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے بیڑے پر اب تک زیادہ تحقیق یا نگرانی نہیں کی گئی جس پر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگر ایک بڑا پرانا ٹینکر حادثے کا شکار ہو جائے تو ہزاروں مربع میل تک تیل کے پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

سمندری حیات کی کثیر تعداد موت کے منہ میں جا سکتی ہے اور ساحلی علاقوں پر 500 سے 1,000 میل یا اس سے زیادہ تک گندگی اور آلودگی پھیل سکتی ہے۔

تحقیق میں ماہرین نے تجاویز دی ہیں کہ سیٹلائٹ پر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ بندرگاہوں میں سخت معائنہ اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

ان خطرناک ٹینکروں کے مالکوں پر پابندیاں لگائی جائیں تاکہ حادثات کے امکانات کم ہوں۔ 

 

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ماہرین نے

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟