Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:33:08 GMT

 رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT

 رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا

لاہور: رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا.پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک میں نظر نہیں آئے گا۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے عین سامنے آئے گا .مگر چونکہ چاند اس وقت زمین سے نسبتاً دور ہوگا، اس لئے سورج مکمل طور پر نہیں چھپے گا .بلکہ سورج کے گرد آگ کے دائرے جیسا منظر نظر آئے گا جسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔فلکیاتی اداروں کے مطابق یہ گرہن 17 فروری کو ہوگا اور اس کا زیادہ سے زیادہ مرحلہ عالمی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 12 منٹ پر ہوگا جبکہ مکمل عمل تقریباً 09:56 سے 14:27 یو ٹی سی تک جاری رہے گا۔ماہرین کے مطابق مکمل رِنگ آف فائر کا نظارہ صرف انٹارکٹیکا کے دور دراز علاقوں میں ممکن ہوگا جبکہ جنوبی افریقا، جنوبی امریکا اور سمندری علاقوں کے کچھ حصوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔سائنس ویب سائٹس کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے تقریباً 96 فیصد حصے کو ڈھانپے گا اور یہ منظر زیادہ سے زیادہ تقریباً دو منٹ تک دیکھا جا سکے گا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت اور ایشیا کے بیشتر علاقوں میں یہ گرہن نظر نہیں آئے گا.

تاہم دنیا بھر کے لوگ اسے لائیو سٹریم کے ذریعے دیکھ سکیں گے. ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو دیکھنے کے لئے خصوصی حفاظتی چشمے استعمال کرنا ضروری ہوتے ہیں کیونکہ براہ راست سورج کو دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کے مطابق آئے گا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل