رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
لاہور: رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا.پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک میں نظر نہیں آئے گا۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے عین سامنے آئے گا .مگر چونکہ چاند اس وقت زمین سے نسبتاً دور ہوگا، اس لئے سورج مکمل طور پر نہیں چھپے گا .بلکہ سورج کے گرد آگ کے دائرے جیسا منظر نظر آئے گا جسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔فلکیاتی اداروں کے مطابق یہ گرہن 17 فروری کو ہوگا اور اس کا زیادہ سے زیادہ مرحلہ عالمی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 12 منٹ پر ہوگا جبکہ مکمل عمل تقریباً 09:56 سے 14:27 یو ٹی سی تک جاری رہے گا۔ماہرین کے مطابق مکمل رِنگ آف فائر کا نظارہ صرف انٹارکٹیکا کے دور دراز علاقوں میں ممکن ہوگا جبکہ جنوبی افریقا، جنوبی امریکا اور سمندری علاقوں کے کچھ حصوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔سائنس ویب سائٹس کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے تقریباً 96 فیصد حصے کو ڈھانپے گا اور یہ منظر زیادہ سے زیادہ تقریباً دو منٹ تک دیکھا جا سکے گا۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت اور ایشیا کے بیشتر علاقوں میں یہ گرہن نظر نہیں آئے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔