بھارت؛ اے آئی سے بنی نامناسب ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے 3 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے قوانین میں اہم ترمیم کرتے ہوئے غیر قانونی یا خلافِ قانون مواد کو صرف 3 گھنٹے کے اندر ہٹانے کا حکم جاری کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے اپنی انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز 2021 میں ترمیم کی ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو غیر قانونی، گمراہ کن، مشتبہ یا خلافِ قانون مواد قرار دیئے جانے کے محض 3 گھنٹے کے اندر اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانا ہوگا۔
نئے قوانین میں اے آئی سے بنے مواد کو واضح طور پر لیبل کرنے کا تقاضا بھی شامل ہے یعنی ایسی ویڈیوز، آڈیو یا تصاویر جنھیں کمپیوٹر یا کسی الگورتھم کی مدد سے تیار کیا گیا ہو انھیں صاف طور پر مخصوص نشانات کے ساتھ دکھانا ہوگا۔
ان مخصوص نشانات سے نشاندہی ہوگی یہ ویڈیو آرٹی فیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ہے جس سے جعلی ویڈیوز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
صارفین پر لازم ہوگا کہ اے آئی مواد پوسٹ کرنے سے قبل یہ بتانا لازمی ہوگا کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔
علاوہ ازیں ایسے مواد پر خودکار ٹولز کے ذریعے جانچ کرنا اور گمراہ کن یا غیر قانونی AI مواد پر قابو پانا اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہوگی۔
اگر حکومت، پولیس یا عدالت کسی خاص پوسٹ یا مواد کو غیر قانونی یا خلافِ قانون قرار کرتی ہے تو اُس سوشل پلیٹ فارم کو صرف 3 گھنٹے میں اسے ہٹانا لازہوگا۔
یاد رہے کہ پہلے یہ مدت 36 گھنٹے تھی، جس میں پلیٹ فارم کو وقت ملتا تھا مگر اب یہ مدت مزید کم کردی گئی ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غلط معلومات، گمراہ کن مواد، جنسی استحصال یا نقصان دہ اے آئی مواد کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
اس سے عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو نقصان پہنچانے والے ڈیپ فیک، فیک وائرل ویڈیوز، جھوٹے الزامات یا غلط دستاویزات کے پھیلاؤ کو سست کرنے میں مدد ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا مواد کو اے ا ئی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :