اجلاس میں 8 فروری کے ہڑتال کے دوران شہریوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اعلان ہوا کہ 13 فروری کو احتجاج کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان صوبہ بلوچستان کا اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان کی زیر صدارت پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلمین اور مرکزی انجمن تاجران کے صدر و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ جاری بیان کے مطابق اجلاس میں 8 فروری 2026 کے پرامن پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران راہ چلتے شہری اور سیاسی جمہوری کارکنوں کی غیر قانونی گرفتاری، انہیں جیل میں حبس بیجا میں رکھنے، انسانی، بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر، بدترین مجرمانہ سلوک و رویہ اختیار کرنے، مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ناروا رویہ اور طرز عمل کو زیر غور لایا گیا، اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اپنے وعدوں سے انحراف پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی جمہوری کارکنوں کی عدم رہائی اور ان کے ساتھ جاری بدترین امتیازی سلوک کے خلاف 13 فروری بروز جمعہ کو کوئٹہ شہر میں احتجاجی مظاہرہ و جلسہ ہوگا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ احتجاج کی بھرپور تیاری کرے اور تمام سیاسی جمہوری پارٹیوں، جمہوریت پسند عوام سے پرامن احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مذاکراتی کمیٹی سے انکار کی روش اور جمہوری روایت کو پائمال کرنے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ 13 فروری کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کا احتجاج پرامن ہوگا اور جمہوری احتجاج کا راستہ روکنے پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ دار ضلعی انتظامیہ اور مسلط حکومت پر عائد ہوگی۔ اجلاس میں تحریک انصاف کے سابق ڈویژنل جنرل سیکرٹری سلام آغا ایڈووکیٹ، صوبائی سینئر نائب صدر سید صادق آغا، ڈویژنل صدر عارف خان کاکڑ و دیگر اراکین، مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی نائب صدر علامہ ولایت حسین جعفری، سیکرٹری جنرل حاجی غلام حسین اخلاقی، رابطہ سیکرٹری فرید احمد، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، سینئر نائب صدر حضرت علی، نائب صدر سید محمد جان آغا درویش، پشتونخوامیپ کے مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال، صوبائی سینئر نائب صدر و ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا، صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، نصیب اللہ نیازی، عصمت کاکڑ، نعیم پیر علیزئی و دیگر اراکین نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان اجلاس میں

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم