Express News:
2026-06-02@23:33:59 GMT

سکل بن پھول رہی سرسوں

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

بسنت برصغیر کی اُن چند روایات میں سے ایک ہے جو موسم ثقافت اور انسانی جذبات کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیتی ہے۔ یہ صرف پتنگ اُڑانے کا دن نہیں، بلکہ رنگوں، خوشیوں اور اجتماعی مسرت کا ایسا تہوار ہے جو دلوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب سردیوں کی دھند چھٹنے لگتی ہے، سرسوں کے کھیت زردی اوڑھ لیتے ہیں اور فضا میں ہلکی سی حدت آ جاتی ہے تو بسنت کی آمد کا اعلان خود موسم کرنے لگتا ہے۔ یہ اعلان کسی کیلنڈرکا محتاج نہیں، یہ دلوں میں خود بخود اتر جاتا ہے۔

 بسنت کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا رنگ ہے۔ زرد رنگ جو زندگی امید اور نئی شروعات کی علامت ہے۔ چھتوں پر زرد دوپٹے سڑکوں پر زرد لباس ،گھروں میں زرد پھول اور فضا میں زرد پتنگیں ، یوں لگتا ہے جیسے پورا شہر ایک ہی رنگ میں نہا گیا ہو۔ یہ رنگ صرف آنکھوں کو نہیں بھاتا بلکہ دل پہ بھی اثرکرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف سنجیدگی اور بوجھ کا نام نہیں بلکہ خوشی، ہنسی اور بے فکری بھی اس کا حصہ ہیں۔

بسنت کا ایک اہم پہلو اس کی اجتماعیت ہے۔ اس دن لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، چھتوں پر اکٹھے ہوتے ہیں، اجنبی بھی ایک دوسرے سے بات کرنے لگتے ہیں۔ ایک ہی محلے کے لوگ جو شاید سال بھر ایک دوسرے کو نام سے نہ جانتے ہوں، بسنت کے دن ایک دوسرے سے ملتے ہیں، مبارکباد دیتے اور پتنگ کٹنے پر ایک ساتھ ہنستے ہیں۔ یہ تہوار سماجی فاصلے کم کرتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

پتنگ بازی بسنت کی پہچان ضرور ہے مگر اصل بات مقابلہ نہیں بلکہ شرکت ہے۔ یہاں جیتنے سے زیادہ اہم شامل ہونا ہے۔ چھوٹے بچے پہلی بار ڈور تھامتے ہیں۔ بزرگ اپنی چھتوں پر بیٹھ کر ماضی کو یاد کرتے ہیں، خواتین طرح طرح کے پکوان تیارکرتی ہیں اور نوجوان جوش و خروش سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے جس میں محبت اور یگانگت کی خوشبو ہوتی ہے۔

بسنت کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ مذہب ، طبقے اور زبان کی حد بندیوں سے ماورا دکھائی دیتی ہے۔ یہ کسی ایک گروہ کا تہوار نہیں بلکہ سب کا ہے۔ یہاں خوشی کا کوئی مخصوص پتہ نہیں نہ کوئی خاص شناخت۔ بسنت اس بات کی علامت بن جاتی ہے کہ ثقافت وہ مشترکہ زمین ہے جہاں مختلف لوگ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت دلوں کو جوڑنے کا تہوار کہلاتی ہے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بسنت بھی تنازعات کی نذر ہوگئی تھی۔ حفاظتی خدشات، حادثات اور بے احتیاطی نے اس تہوارکی خوشیوں کو دھندلا دیا۔ پابندیاں لگیں، خوف پیدا ہوا اور آہستہ آہستہ وہ رنگ ماند پڑنے لگے جو کبھی فضا میں بکھرا کرتے تھے۔ سوال یہ نہیں کہ خطرات موجود نہیں تھے، سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل صرف پابندی ہے؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ احتیاط اور ذمے داری کے ساتھ اس روایت کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟

بسنت ہمیں ذمے داری کا سبق بھی دیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ خوشی اور احتیاط ایک ساتھ چل سکتے ہیں، اگر ڈور محفوظ ہو، اگر قانون پر عمل ہو، اگر انسان دوسرے انسان کی جان کو اپنی خوشی سے زیادہ قیمتی سمجھے تو بسنت واقعی ایک خوبصورت تہوار بن سکتا ہے۔ مسئلہ تہوار نہیں، مسئلہ ہمارے رویے ہیں۔ جب رویے بدلیں گے تو روایت بھی محفوظ ہو گی۔

آج کے دور میں جب زندگی تیز، بے رحم اور مقابلے سے بھری ہوئی ہے، بسنت جیسے تہوار ہمیں سانس لینے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی صرف اسکرینوں، خبروں اور مسائل کا مجموعہ نہیں۔ یہ ہنسی رنگ اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کا نام بھی ہے۔ بسنت ایک دن کے لیے ہی سہی ہمیں اپنی چھتوں پر واپس لے آتی ہے جہاں آسمان قریب محسوس ہوتا ہے اور دل ہلکا ہو جاتا ہے۔

نئی نسل کے لیے بسنت محض ایک روایت نہیں بلکہ شناخت کا حصہ بن سکتی ہے بشرطیکہ ہم اسے مثبت انداز میں منتقل کریں، اگر ہم بچوں کو صرف پتنگ نہیں بلکہ ذمے داری احترام اور خوشی بانٹنے کا ہنر سکھائیں تو بسنت محض ماضی کی یاد نہیں رہے گی بلکہ مستقبل کی امید بن جائے گی۔ ثقافت تب ہی زندہ رہتی ہے جب وہ وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنائے ورنہ رنگ مدھم ہوتے ہوتے مٹ جاتے ہیں۔

بسنت کا پیغام سادہ مگر،گہرا ہے خوشی بانٹی جائے تو بڑھتی ہے، رنگ ماحول کو اور زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں اور دل جڑیں تو سماج مضبوط ہوتا ہے۔ یہ تہوار ہمیں اختلاف کے شور میں ہم آہنگی کی یاد دلاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب سماج تقسیم در تقسیم کا شکار ہو، بسنت ہمیں ایک مشترکہ خوشی اور مسکراہٹ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت صرف ایک دن یا ایک تہوار کا نام نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ احساس ہے زندگی سے محبت کا، ایک دوسرے کے قریب آنے اور لمحہ بھر کو فکروں سے آزاد ہونے کا۔ اگر ہم اس احساس کو زندہ رکھ سکیں تو شاید ہمارے شہر ہمارے آسمان اور ہمارے دل ایک بار پھر رنگوں سے بھر جائیں۔

بسنت صرف رنگ خوشی اور پتنگ بازی کا تہوار نہیں، بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی اور انسانی جذبوں کی عکاسی بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی خوشی صرف خود کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے احترام شفقت اور باہمی تعلق کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ چھتوں پرکھڑے لوگ محلے میں کھیلتے بچے بزرگ جو ماضی کی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، خواتین جو محبت اور محنت سے پکوان تیارکرتی ہیں۔

 اس تہوار میں چھوٹا اور بڑا سب برابر ہیں اور یہی سماجی سبق ہے کہ خوشی کسی طبقے یا عمرکی محتاج نہیں۔ بسنت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ثقافت اور روایات کو صرف یادگار تصاویر رنگین لمحے یا وقتی جوش تک محدود نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ انھیں ذمے داری احترام اور اجتماعی شعور کے ساتھ زندہ رکھنا چاہیے تاکہ ہر نسل اس کی روشنی رنگ اور پیغام سے متاثر ہو، اگر ہم یہ شعور برقرار رکھ سکیں تو بسنت صرف ایک دن کا جشن نہیں بلکہ زندگی، محبت، امید اور انسانیت کا جشن بن جائے گا جو دلوں کو قریب لائے گا اور سماج کو مضبوط کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ایک دوسرے چھتوں پر ہمیں یاد بسنت کی کے ساتھ کہ خوشی تو بسنت ہیں اور ایک ہی

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں