پی سی بی کے آئی سی سی کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور آئی سی سی کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد بھارت میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا نے نہ صرف آئی سی سی بلکہ اپنے کرکٹ بورڈ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان نے شاندار سفارتی اور اسٹریٹجک حکمت عملی کے ذریعے بنگلہ دیش کو اپنے حق میں کر لیا اور اپنی شرائط بھی منوا لیں۔
بھارتی میڈیا نے اسے بھارت کی بےعزتی قرار دیا اور لکھا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ کرکٹ پاکستان کے بغیر نہیں چل سکتی۔
مزید پڑھیںآئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی مذاکرات؛ آئی سی سی کا اعلامیہ جاری
ذرائع کے مطابق بھارت کو نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانا پڑے گا۔
حکام نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی اجازت کے بعد پاکستانی ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی کرکٹ ڈپلومیسی کی بڑی کامیابی ہے جس نے بھارت کو دباؤ میں لا دیا۔
پاکستانی حکمت عملی کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سخت ردعمل کے باوجود پاکستان نے اپنے مفادات میں واضح کامیابی حاصل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔