ملیر میں پولیس کیخلاف خواجہ سراؤں کا احتجاج، پولیس کی فائرنگ سے راہگیر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) ملیر، الفلاح میں ولایت شاہ مزار کے قریب پولیس کے خلاف خواجہ سراؤں کے احتجاج کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور خواجہ سراؤں نے پولیس گردی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 30 سالہ دانش نامی شخص زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمی ہونے والا شخص مبینہ طور پر راہگیر تھا جو احتجاج کے دوران زد میں آگیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک متاثرہ خواجہ سرا نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کزن کے ساتھ ایک پروگرام سے گھر واپس جا رہی تھیں کہ راستے میں پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا۔دورانِ تلاشی اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا سلوک کیا۔کزن کا حوالہ دینے اور گھر جانے کی درخواست کے باوجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خواجہ سرا نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اس رویے پر اپنے دیگر ساتھیوں کو بلایا اور احتجاج شروع کیا، تو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی، جس سے راہگیر دانش زخمی ہوگیا۔دوسری جانب پولیس حکام نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ابتدائی بیان جاری کیا ہے۔ الفلاح پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا شخص الفلاح تھانے کا اہلکار نہیں ہے۔فائرنگ کرنے والا مبینہ شخص موقع پر اپنی موٹر سائیکل چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور شخص کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور موٹر سائیکل کے ذریعے اس کی شناخت کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد بڑی تعداد میں خواجہ سراؤں نے سڑک بلاک کر کے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تشدد اور فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ سراو ں
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔