بنگلادیش میں کل عام انتخابات: سیکورٹی کے سخت انتظامات ‘ فوج تعینات‘ موٹر سائیکل چلانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-01-24
ڈھاکا(نمائندہ خصوصی ) بنگلادیش میں عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر لیے گئے ہیں اور فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے، جس کے لیے ڈھاکا سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں انتخابی مہم کا آخری روز مکمل ہو چکا ہے۔انتخابی عمل کو پْرامن بنانے کے لیے حکومت نے رات 12 بجے سے 3 روز کے لیے ملک بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عاید کر دی ہے۔ سیکورٹی ادارے پولنگ اسٹیشنز اور حساس علاقوں میں الرٹ رہیں گے۔300 رکنی قومی پارلیمان کی نشستوں کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلادیش جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 300 میں سے کم از کم 151 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔یہ انتخابات اگست 2024ء میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفا اور ملک چھوڑنے کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔دوسری جانب ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں اتحاد کو 44.
ڈھاکا: امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن کی قیادت میں نکالی جانے والی انتخابی ریلی کے مختلف مناظر
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔