سندھ ایمرجنسی کونسل کے نام سے نئے ادارے کے قیام پر زور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-11
کراچی (رپورٹ ‘واجد حسین انصاری) سانحہ گل پلازہ میں بڑے جانی ومالی نقصان اور باہمی رابطے کے فقدان کے باوجود کئی سرکاری محکمے اپنے زیر کنٹرول اداروں کو ایک منظم ریسکیو اتھارٹی کی ماتحتی میں دینے سے گریز کررہے ہیں، حکومت سندھ پورے صوبے کے لیے ایک منظم ریسکیو ادارے کا قیام چاہتی ہے۔حکومت سندھ نے سانحہ گل پلازہ کے بعد ریسکیو، ریلیف اور اور بحالی کے الگ لگ محکموں کو یکجا کرنے کی تجویز پر کام شروع کردیا ہے اور اس ضمن میںسندھ ایمرجنسی کونسل کے نام سے نئے ادارے کے قیام پر غورکیا جارہا ہے۔حکومت سندھ کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مجوزہ سندھ ایمرجنسی کونسل کا سربراہ وزیراعلیٰ سندھ کوبنانے کی تجویز ہے۔ حکومت سندھ کی ہدایت پر متعلقہ حکام نے سندھ میں ریسکیو ریلیف اوربحالی کے مختلف محکموں کو یکجا کرنے کے لیے مختلف سفارشات کی تیاری پر اپنا کام شروع کردیا ہے۔ توقع ہے کہ سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں مجوزہ ریسکیو ریلیف بحالی کے اداروں کے انضمام کا خاکہ پیش کیاجائے گا۔ایمبولینس محکمہ صحت کے سندھ انٹیگریٹیڈ ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت ہیں۔ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ مجوزہ سندھ ایمرجنسی کونسل میں تمام اداروں کو ایک اتھارٹی کے تحت کیا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی کی صورت میں فیصلے لینے میں تاخیر نہ ہو۔اس وقت انتظامی دشواریوں کی وجہ سے ایمرجنسی،ڈیزاسٹر ریسپانس میکنزم موثر نہیں ہے،چیف سیکرٹری سندھ نے ریسکیو ریلیف ریسپانس اداروں کے انضمام پر سفارشات مرتب کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض محکموں نے سول ڈیفنس اور فائر بریگیڈ کو واپس نہ لینے پر زور دیاہے۔ محکمہ بحالیات ایمرجنسی ریسکیو کے شعبوں میں نان ٹیکنیکل سائیڈ کے سربراہان کی وجہ سے بھی انتظامی مسائل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ایمرجنسی کونسل حکومت سندھ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔