data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔ شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد میں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عاید کرنے اور تمام لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ شراب خانوں پر پابندی عاید کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کرسکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔ سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پراپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کردہ تمام قراردادیں مسترد کردی گئیں اور ان میں سے کوئی ایک قرارداد بھی منظور نہ ہوسکی۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے اپنے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کو صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس تھی، جس میں صرف میڈیا سے گفتگو کرنی تھی، لیکن ہمارے پہنچنے سے قبل ہی کیمپ اکھاڑ دیا گیا تھا اور ساؤنڈ سسٹم بھی الٹا دیا گیا تھا موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری مجھ سمیت امیر جماعت اسلامی کراچی ودیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا گیا ہمارے ایک بزرگ کو دھکے مار کر موبائل میں ڈالا گیا۔ محمد فاروق نے کہا کہ میں ایس ایچ او پریڈی کو قصور وار نہیں سمجھتا کیونکہ وہ صرف حکم کی تعمیل کررہا تھا، میرا سوال یہ ہے کہ پولیس کو ایسا کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ہمارے ایک بزرگ کو دھکے مار کر موبائل میں ڈالا گیا جو بہت ہی افسوسناک ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ہمارے ایک ساتھی ایم پی اے واجد حسین کو تھانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا انہیں الٹا لٹا کر ڈنڈوں سے مارا گیا اس کے بعد پولیس نے اندھیری جگہ پر چھوڑ دیا ان کے 50ہزار روپے بھی نکال لیے۔ اس صورتحال میں 15 سال بعد پیپلز پارٹی کا نیا چہرہ نظر آیا، محمد فاروق نے سوال کیا کہ کون ہے جو صوبے کو چلارہا ہے ، وہ جمہوری اداروں کو بھی پامال کررہا ہے اور پارلیمنیٹریز کو بھی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ میں اسپیکر کا شکر گزار ہوں کے آج انہوں نے اس ایوان میں مجھے بات کرنے کی اجازت دی۔پی ٹی آئی رکن شبیر قریشی نے منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہمارے درجنوں کارکنوں کو گھروں سے نکال کر گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک ساتھی ایم پی اے محمد فاروق جو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے موجودہ حکومت کے فراڈ الیکشن کے دو سال مکمل ہونے پر عوامی پریس کانفرنس کرنے جارہے تھے انہوں نے پریس کانفرنس شروع کی تھی کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ حکومت کو سیاسی کارکنوں اور دہشت گردوں میں فرق محسوس کرنا چاہیے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ دو ایم پی ایز محمد فاروق اور واجد حسین کے ساتھ زیادتی ہوئی مجھے بڑا افسوس ہے، میں ان دونوں ایم پی ایز کے سامنے شرمندہ ہوں میں ان سے برملا معذرت چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کی پارلیمنٹرین کے ساتھ کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس واقعے کے بعد ایس ایچ او اور دیگر متعلقہ عملے کو ہٹادیا گیا ہے ، محمد فاروق اور واجد حسین کی گرفتاری کی تحقیقات کررہے ہیں جو بھی ذمے داران ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہر کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت ہے۔ بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ13فروری دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تشدد کا نشانہ سندھ اسمبلی محمد فاروق پر پابندی ہمارے ایک نے کہا کہ انہوں نے دیا گیا ایم پی

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن