سندھ اسمبلی : شراب خانوں پر پابندی اور خرید و فروخت کیخلاف قرارداد مسترد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔ شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔ قرارداد میں صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عاید کرنے اور تمام لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ شراب خانوں پر پابندی عاید کرنے سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر ہوں گے، اسی لیے حکومت اس تجویز کی حمایت نہیں کرسکتی۔ بحث کے بعد اسمبلی نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔ سندھ اسمبلی میں منگل کو پرائیوٹ ممبرز ڈے کے موقع پراپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کردہ تمام قراردادیں مسترد کردی گئیں اور ان میں سے کوئی ایک قرارداد بھی منظور نہ ہوسکی۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے اپنے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری کو صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس تھی، جس میں صرف میڈیا سے گفتگو کرنی تھی، لیکن ہمارے پہنچنے سے قبل ہی کیمپ اکھاڑ دیا گیا تھا اور ساؤنڈ سسٹم بھی الٹا دیا گیا تھا موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری مجھ سمیت امیر جماعت اسلامی کراچی ودیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا گیا ہمارے ایک بزرگ کو دھکے مار کر موبائل میں ڈالا گیا۔ محمد فاروق نے کہا کہ میں ایس ایچ او پریڈی کو قصور وار نہیں سمجھتا کیونکہ وہ صرف حکم کی تعمیل کررہا تھا، میرا سوال یہ ہے کہ پولیس کو ایسا کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ہمارے ایک بزرگ کو دھکے مار کر موبائل میں ڈالا گیا جو بہت ہی افسوسناک ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ہمارے ایک ساتھی ایم پی اے واجد حسین کو تھانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا انہیں الٹا لٹا کر ڈنڈوں سے مارا گیا اس کے بعد پولیس نے اندھیری جگہ پر چھوڑ دیا ان کے 50ہزار روپے بھی نکال لیے۔ اس صورتحال میں 15 سال بعد پیپلز پارٹی کا نیا چہرہ نظر آیا، محمد فاروق نے سوال کیا کہ کون ہے جو صوبے کو چلارہا ہے ، وہ جمہوری اداروں کو بھی پامال کررہا ہے اور پارلیمنیٹریز کو بھی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ میں اسپیکر کا شکر گزار ہوں کے آج انہوں نے اس ایوان میں مجھے بات کرنے کی اجازت دی۔پی ٹی آئی رکن شبیر قریشی نے منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہمارے درجنوں کارکنوں کو گھروں سے نکال کر گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک ساتھی ایم پی اے محمد فاروق جو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے موجودہ حکومت کے فراڈ الیکشن کے دو سال مکمل ہونے پر عوامی پریس کانفرنس کرنے جارہے تھے انہوں نے پریس کانفرنس شروع کی تھی کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ حکومت کو سیاسی کارکنوں اور دہشت گردوں میں فرق محسوس کرنا چاہیے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ دو ایم پی ایز محمد فاروق اور واجد حسین کے ساتھ زیادتی ہوئی مجھے بڑا افسوس ہے، میں ان دونوں ایم پی ایز کے سامنے شرمندہ ہوں میں ان سے برملا معذرت چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والوں کی پارلیمنٹرین کے ساتھ کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس واقعے کے بعد ایس ایچ او اور دیگر متعلقہ عملے کو ہٹادیا گیا ہے ، محمد فاروق اور واجد حسین کی گرفتاری کی تحقیقات کررہے ہیں جو بھی ذمے داران ہیں ان کے خلاف ایکشن ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہر کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت ہے۔ بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ13فروری دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تشدد کا نشانہ سندھ اسمبلی محمد فاروق پر پابندی ہمارے ایک نے کہا کہ انہوں نے دیا گیا ایم پی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔