بھارت: عالمی اعتماد کا بحران اور اولمپکس 2036 کی میزبانی مشکوک
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-03-4
عالمی کھیلوں کی تاریخ اس اصول پر استوار رہی ہے کہ کھیل قوموں کو جوڑنے، تنازعات کو کم کرنے اور انسانیت کے مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں، مگر جب ریاستیں کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگیں تو نہ صرف یہ روح مجروح ہوتی ہے بلکہ عالمی اعتماد بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ آج بھارت اسی نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں اس کے 2036 کے سمر اولمپکس کی میزبانی کے بلند بانگ دعوے ایک ایسے بحران کی زد میں ہیں جس نے اس کی کھیلوں سے وابستہ ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بھارت طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا آ رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانیے میں 2036 اولمپکس اس ’’نئے بھارت‘‘ کی علامت سمجھے جاتے ہیں جو دنیا کو اپنی تنظیمی صلاحیت، معاشی قوت اور نرم طاقت سے متاثر کرنا چاہتا ہے۔ تاہم کھیلوں میں حالیہ واقعات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ ریاستی مداخلت، سیاسی جانبداری اور سفارتی تنگ نظری بھارت کے کھیلوں کے ڈھانچے میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن سے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی طویل عرصے سے خبردار کرتی آ رہی ہے۔
کرکٹ، جو بھارت میں محض کھیل نہیں بلکہ ایک قومی جذبہ سمجھا جاتا ہے، اسی بحران کا مرکز بن چکا ہے۔ مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل بائیکاٹ کی دھمکیاں، مخصوص ممالک کے کھلاڑیوں کو ویزے دینے سے انکار، اور کھیل کو سفارتی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے واقعات نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت بطور میزبان سب کے لیے یکساں اور غیر جانبدار ماحول فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ عالمی کھیلوں کی میزبانی کی بنیادی شرط یہی ہوتی ہے کہ میزبان ملک تمام شرکاء کو داخلے، تحفظ اور مساوی مواقع کی ضمانت دے، مگر بھارت کے طرزِ عمل نے اس اصول کو کمزور کر دیا ہے۔ اس بحران کی ایک نمایاں مثال جنوری میں سامنے آئی، جب بنگلا دیش کے کرکٹر مصتفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگرچہ اس اقدام کو بظاہر انتظامی یا تکنیکی بنیادوں پر جواز دینے کی کوشش کی گئی، مگر بین الاقوامی مبصرین اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں کی بڑی تعداد نے اسے سیاسی پس منظر سے جوڑ کر دیکھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے عالمی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ آیا بھارت واقعی کھیل اور سیاست کے درمیان حد ِ فاصل قائم رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
امریکی جریدے فارن پالیسی کی جانب سے شائع ہونے والے تجزیے نے اس بحث کو مزید مہمیز دی، جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ بھارت میں کھیلوں پر بڑھتی ہوئی سیاسی گرفت 2036 اولمپکس کے خواب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تجزیے میں نشاندہی کی گئی کہ اولمپک میزبانی صرف انفرا اسٹرکچر یا مالی وسائل کا معاملہ نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور غیر جانبداری کا امتحان بھی ہوتی ہے۔ جب ایک ملک کھیلوں کے میدان کو سیاسی ایجنڈے کے فروغ کے لیے استعمال کرتا دکھائی دے تو عالمی اداروں کے تحفظات فطری ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے خدشات محض سیاسی مداخلت تک محدود نہیں۔ بھارت کو گورننس، اینٹی ڈوپنگ نظام اور مجموعی کارکردگی کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ماضی میں اینٹی ڈوپنگ کے متعدد واقعات، کھیلوں کی فیڈریشنوں میں حکومتی اثر و رسوخ اور عدالتی تنازعات نے بھارت کے کھیلوں کے نظم و نسق کو کمزور دکھایا۔ ایسے میں 2036 جیسے عظیم الشان عالمی ایونٹ کی میزبانی کا دعویٰ ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
ویزا انکار اور ممکنہ بائیکاٹ کی فضا نے بھارت کی بطور میزبان حیثیت کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔ عالمی کھیلوں میں یہ روایت مسلمہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کھلاڑیوں اور ٹیموں کو مقابلے کا پورا حق دیا جائے۔ مگر جب کسی ملک کے دروازے مخصوص قومیت یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بند ہونے لگیں تو یہ کھیل کے عالمی کردار کی نفی کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد مبصرین کے نزدیک بھارت اس وقت عملاً یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ اس بھاری ذمے داری کے لیے تیار نہیں جس کا تقاضا اولمپکس جیسا ایونٹ کرتا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے محض ایک وقتی سفارتی یا کھیلوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے عالمی وژن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ اگر بھارت واقعی خود کو ایک ذمے دار عالمی میزبان کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے کھیلوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا ہوگا، کھلاڑیوں کے ساتھ مساوی سلوک کو یقینی بنانا ہوگا اور عالمی اداروں کے تحفظات کو محض تنقید نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر 2036 اولمپکس کا خواب محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا، جو حقیقت کی کسوٹی پر پورا نہیں اُتر سکے گا۔ عالمی کھیلوں کی برادری اس وقت بھارت کو بغور دیکھ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا وہ کھیل کی غیر سیاسی روح کو تسلیم کرتا ہے یا اسے طاقت، قوم پرستی اور سفارت کاری کے امتزاج کا آلہ کار بنائے رکھتا ہے۔ فیصلہ بھارت کے ہاتھ میں ہے، مگر وقت تیزی سے نکل رہا ہے، اور کھیل کی دنیا میں اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی کھیلوں کی میزبانی کھیلوں کی کھیلوں کے نہیں بلکہ بھارت کے رہی ہے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار