مصنوعی ذہانت… وزیر اعظم کے اہم اعلانات
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان آئندہ پانچ برس کے دوران، 2030ء تک مصنوعی ذہانت یا اے آئی کے شعبے پر ایک ارب ڈالر خرچ کرے گا جب کہ اس شعبہ میں پی ایچ ڈی کی سطح تک تعلیم و تحقیق کے لیے ایک ہزار مکمل فنڈڈ وظائف دیے جائیں گے۔ یہ اعلانات وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز ’انڈس اے آئی ویک 2026ء‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔ وزیر اعظم نے اس ضمن میں منعقدہ ’’انڈس آرٹیفیشیل انٹیلی جنس کانفرنس‘‘ سے خطاب کے دوران توقع ظاہر کی کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے یہ ہفتہ ملک کے ٹیکنالوجی کے منظر نامے کو بدل دے گا، یہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا۔ مصنوعی ذہانت مستقبل کا خواب نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہے، پاکستان عالمی اے آئی انقلاب کا محض تماشائی نہیں بلکہ خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ اخلاقی اصولوں کے تحت اے آئی کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے روز گار، معیشت کے لیے استحکام اور ریاست کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط مستقبل ممکن ہو گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان 2030ء تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس سے سوورن کمپیوٹنگ انٹراسٹرکچر اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ وفاقی تعلیمی اداروں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اے آئی نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2030ء تک اے آئی میں ایک ہزار مکمل فنڈ ڈپی ایچ ڈی اسکالرشپس اور 10 لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی اسکلز کی تربیت دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فی صد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے۔ کانفرنس میں ’’اعلان اسلام آباد‘‘ کی منظوری بھی دی گئی جس میں خود مختار مصنوعی ذہانت اور آرٹیفیشیل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) کے لیے پاکستان کے بنیادی اصول اور ترجیحات طے کی گئیں۔ ’اعلان اسلام آباد‘ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کو قومی مفاد، شفافیت، ڈیٹا تحفظ، انسانی نگرانی، ذمے دارانہ اختراع اور نجی شعبے کی قیادت سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ ملک کی پچیس کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی کا ساٹھ فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو بدقسمتی سے بے روز گاری اور بے کاری کے ہاتھوں تنگ آ کر نہایت تیزی سے ملک چھوڑ کر بیرون ملک روز گار کی تلاش میں سرگرداں ہے حالانکہ اگر ہم بحیثیت قوم اپنے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں تو انہیں اندرون ملک ہی بہتر ذرائع روز گار فراہم کیے جا سکتے ہیں جس کی ایک روشن مثال جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے وژن کے تحت ’’بنو قابل‘‘ کا منصوبہ ہے جسے کراچی سے شروع کرنے کے بعد تیزی سے پورے ملک تک وسعت دی جا رہی ہے اس منصوبے نے نئی نسل کو ایک نئی اور مثبت راہ دکھائی ہے اسی لیے یہ بہت تیزی سے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ اب اگر حکومتی سطح پر بھی نوجوانوں کو اس شعبہ میں جدید رجحانات کے مطابق تعلیم و تربیت کی فراہمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے تو یہ نہایت خوش آئند اقدام ہے تاہم ضرورت ہے کہ حکومت ماضی کی طرح وقتی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے سنجیدگی سے تعلیم، تحقیق اور ترقی کے ٹھوس مواقع اور وسائل فراہم کرنے پر توجہ دے تاکہ مستقبل قریب میں یہ نوجوان نہ صرف خود اپنے لیے روز گار کا بندوبست کر سکیں بلکہ ملکی تعمیر و ترقی اور خوش حالی میں بھی قابل قدر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت روز گار اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔