ہمارا مقصد صرف بنگلا دیش کو عزت دلانا تھا، ہمارا کوئی ذاتی مقصد نہیں تھا: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے حالیہ مذاکرات کے دوران واضح کیا ہے کہ ان کی اولین ترجیح بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے حقوق کا تحفظ اور انہیں عالمی سطح پر عزت دلانا تھا نہ کہ کسی ذاتی یا قومی مفاد کے حصول کی کوشش۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مذاکرات میں پی سی بی نے صرف بنگلا دیش کے مطالبات کو اجاگر کیا اور دیگر کسی شرط یا مقصد کا تعاقب نہیں کیا، ہمارا واحد مقصد بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ممکنہ ناانصافی کو دور کرنا اور ان کے جائز مطالبات تسلیم کرانا تھا۔
یہ مذاکرات دو روز قبل لاہور میں منعقد ہوئے، جن میں آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ مذاکرات میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی موجود تھے۔ اجلاس کا مرکزی موضوع پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے ممکنہ بائیکاٹ اور بنگلا دیش کے تحفظات تھے۔
مذاکرات کے بعد آئی سی سی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر بنگلا دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، بنگلا دیش کو مستقبل میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی بھی دی جائے گی، جس کے مطابق بی سی بی 2028 سے 2031 کے درمیان کسی ایک عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
بعد ازاں، مذاکرات کے مثبت نتائج اور سری لنکن اور بنگلا دیشی کرکٹ بورڈز کی سفارش کے بعد پاکستان حکومت نے بھی اپنی قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی، جس سے عالمی کرکٹ میں امن و تعاون کا پیغام مضبوط ہوا۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مذاکرات نہ صرف بنگلا دیش کے مفادات کی ضمانت ہیں بلکہ خطے میں کرکٹ کے فروغ اور تعلقات کی مضبوطی کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ہیں، جو آئندہ آئی سی سی ایونٹس میں شفافیت اور منصفانہ فیصلوں کی راہ ہموار کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بنگلا دیش کے پی سی بی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔