data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-1-3
واشنگٹن (آن لائن)امریکی جریدے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان رجیم شدت پسندی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہورہی ہے۔ طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد گروہوں کے سرحد پار حملوں سے علاقائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں – افغان طالبان کے زیر سایہ دہشتگرد گروپس پاکستان اور تاجکستان کی سرزمین پر اور چینی مفادات پر حملے کر رہے ہیں-امریکی جریدہ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد مدرسوں کی تعداد 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہو گئی- مدرسہ طالب علموں کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ ہو گئی-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق مغربی ممالک ابھی بھی طالبان رجیم کو سیکورٹی کے بجائے صرف ایک اخلاقی مسئلہ سمجھ رہے ہیں- مغربی ممالک افغانستان سے اپنی سرزمین پر حملے نہ ہونے سے بظاہر مطمئن نظر اتے ہیں-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق انسانی امداد کے نام پر طالبان رجیم کو ہفتہ وار نقد رقوم دی جا رہی ہیں- افغان سرزمین سے جڑی دہشت گردی میں اضافے کے باعث پاکستان سب سے زیادہ متاثرہواہے-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے تاجکستان میں ڈرون حملہ اور فائرنگ کے واقعات میں متعدد چینی شہری جہاں بحق، چینی مفادات براہِ راست ہدف پرہے۔ ترکستان اسلامک پارٹی کی افغانستان میں موجودگی چین کے لیے سنگین سیکورٹی خطرہ، چین اور پاکستان کا طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ ہے -افغانستان سے جڑا علاقائی بحران مغرب کے لیے بھی اہم، نظرانداز کرنے سے شدت پسند نیٹ ورکس منظم ہو سکتے ہیں -نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے پھیلتے خطرات عالمی معیشت اور دہشت گردی کے خلاف حاصل کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے طالبان رجیم

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل