امن کیلیے فوج کے بعد ہم نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-8-17
بدین (نمائندہ جسارت ) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے زیر اہتمام جمخانہ ہال میں تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام(ف) سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال کسی طور بہتر نہیں ہو رہی، بے امنی روز بروز بڑھ رہی ہے اور حکمران مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ فوج کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے امن کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک اور سندھ کے لیے الفاظ سے نہیں بلکہ خون دے کر قربانیاں دی ہیں۔ میں نے اپنے والد کی میت خود اٹھائی ہے، ہماری قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب قیادت کو تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے، کیونکہ موجودہ حکمرانوں نے سندھ کے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ عوام کو روٹی، کپڑا، مکان، روزگار، امن اور صحت کی اچھی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سندھ کی حالت انتہائی افسوسناک ہو چکی ہے، دو سال سے کم عمر کے معصوم بچے اغوا ہو رہے ہیں، چار سال کی بچیوں سے زیادتی جیسے غیر انسانی واقعات ہو رہے ہیں۔ کارونجھر جیسا تاریخی اور قدرتی ورثہ محفوظ نہیں، جزیرے محفوظ نہیں، دریا ڈاکوؤں کی گرفت میں ہیں۔ میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے، لوگ علاج نہ ہونے سے اسپتالوں میں مر رہے ہیں جب کہ سندھ میں 40 لاکھ سے زائد بچے تاحال تعلیم سے محروم ہیں، جو حکمرانوں کی نااہلی کا بڑا ثبوت ہے۔ مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ وفاقی حکومت سمیت سندھ حکومت جعلی مینڈیٹ پر بنتی ہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کی رٹ نظر نہیں آتی۔ جمعیت علمائے اسلام نے سندھ میں امن کے لیے امن مارچ کیا لیکن حکمران جماعت کے ایم پی اے اور ایم این ایز نہیں چاہتے کہ سندھ میں امن قائم ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سندھ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور امن، انصاف اور حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور حکمرانوں کی نااہلی کو ہر فورم پر بے نقاب کیا جائے گا اس موقع پر ضلع بدین کے امیر عبدالواحد فاروقی، جنرل سیکرٹری مولانا فتح محمد مہیری، سیکرٹری اطلاعات چودھری رفعت نوید بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جمعیت علمائے اسلام سندھ کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔