امریکاو اسرائیل سے بڑھتی قربت ملکی سالمیت کیلیے خطرہ ہے، ابوالخیر زبیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء پاکستان (جے یو پی) کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس زوم پر آن لائن ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملکی اور بین الاقوامی صورتحال، اسلام مخالف قوانین کی منظوری، اتحاد اہلسنّت، 28 مارچ یوم تاسیس جمعیت علماء پاکستان اور رکنیت سازی مہم سمیت متعدد اہم مسائل پر تفصیل سے غور کیا گیا۔اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، صدر جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن بورڈ عالم اسلام اور فلسطینی عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب تک فلسطینی عوام اور حماس اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے، جے یو پی غزہ امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف امن کی باتیں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ایران کوجنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں، غزہ میں اسرائیلی ظلم کا سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کے بارے میں عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔امت مسلمہ کردار ادا کرے۔پاکستان میں بھی امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ دھماکہ کے پی کے اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے امنی نے عالمی منظرنامے کو متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں اس وقت مسلم حکمراں متحد ہوں مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا تاکہ ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ 25 کروڑ عوام کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے امریکا کی حمایت اور اسرائیل سے محبت کی پینگیں بڑھانے میں لگے ہیں جبکہ ملک کی سالمیت خطرے میں ہے، اسلام دشمن طاغوتی قوتیں ملک میں انتشاراور افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں،ملک میں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر زبیر نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے خلاف شریعت قوانین منظور کیے ہیں، جن میں 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی اور حقوق نسواں بل شامل ہیں۔ ان کو فوری واپس لیا جائے ان کا کہنا تھا کہ شراب خانوں کی اجازت دی جا رہی ہے اور فحاشی، بے حیائی اور عریانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔