ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا کا ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
امریکی عہدیداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا، جو پہلے وینزویلا کیخلاف استعمال کی گئی تھی، مگر اسکے نتیجے میں تہران کیجانب سے شدید ردعمل اور عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نے ایرانی تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر غور شروع کر دیا۔ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے تیل بردار جہازوں کو قبضے میں لینے پر بات ہوئی ہے، تاہم امریکی حکام کو ایران کی جوابی کارروائی اور عالمی تیل کی منڈیوں پر اثرات کا خدشہ ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا، جو پہلے وینزویلا کے خلاف استعمال کی گئی تھی، مگر اس کے نتیجے میں تہران کی جانب سے شدید ردعمل اور عالمی تیل منڈی میں عدم استحکام کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران وینزویلا کو تیل فراہم کرنے والے کئی جہازوں کے خلاف کارروائیاں کیں، اس دوران ایرانی تیل لے جانے والے جہاز بھی ضبط کیے گئے۔
دوسری جانب بھارت نے چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران کے تیل بردار جہاز بھی ضبط کرلیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرۂ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکروں کو ضبط کیا، تینوں آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر روکا گیا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ بحری جہاز ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ایران سے منسلک تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم