جدید ٹیکنالوجی سے دفاعی تعلقات کو فروغ دیا جائیگا: پاکستان، سعودیہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں میں معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) سعودی عرب میں جاری عالمی دفاعی نمائش کے دوران سعودیہ اور پاکستان کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا پاکستانی اور سعودی عرب کی دفاعی کمپنیوں کے درمیان ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق پاک سعودیہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دفاعی تعلقات کو فروغ دی گی ادھر پاکستان ایئر فورس کی ٹیم سعودی عرب میں عالمی دفاعی نمائش 2026 ء میں حصہ لے رہی ہے۔ اس موقع پر پی اے ایف جدید JF-17 تھنڈر بلاک-III ملٹی رول فائٹر جیٹ اور معروف سپر مشاق بیسک ٹرینر طیارے کو پیش کیا پی اے ایف کی شرکت پاکستان کو ہوا بازی اور دفاعی حل کے شعبے میں ایک ابھرتا ہوا عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مقامی ایرو سپیس صلاحیتوں اور تجربہ کار آپریشنل مہارت کو اجاگر کیا گیا۔JF-17 بلاک-III پاکستان کی لڑاکا ہوا بازی ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے، جس میں جدید اویونکس، اے ای ایس اے ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور دور دراز لڑائی کی صلاحیتیں شامل ہیں، جو جدید فضائی افواج کی عملی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ اسی طرح سپر مشاق ٹرینر طیارہ پاکستان کی پائلٹ تربیت کے شعبے میں مہارت کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنی قابل اعتماد، کم لاگت اور آسان دیکھ بھال کی خصوصیات کی بدولت سپر مشاق کئی دوست ممالک کی فضائیہ میں کامیابی کے ساتھ شامل کیا گیا اور دنیا بھر میں بنیادی پرواز کی تربیت کے لیے معیار قائم کرتا ہے۔ پی اے ایف کی عالمی دفاعی نمائش میں موجودگی دفاعی تعاون، دفاعی برآمدات کی فروغ اور دوست ممالک کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری مضبوط کرنے کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔