ویب ڈیسک :​حکومتِ پاکستان کے 'ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ' کے تحت نادرا نے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے "نشانِ پاکستان" کے نام سے جدید ترین آن لائن شناختی تصدیق کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔

اس نئے ویب پورٹل کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب رجسٹریشن، سبسکرپشن اور ڈیٹا تک رسائی سمیت تمام تر سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کر دی گئی ہیں۔ ماضی میں سرکاری اور نجی اداروں کو طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار کی منظوریوں کے باعث جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، "نشانِ پاکستان" نے ان کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔

کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک

نادرا آرڈیننس کے تحت فراہم کی جانے والی اس سروس سے نہ صرف سرکاری محکمے بلکہ ریگولیٹڈ نجی ادارے بشمول بینک، ٹیلی کام کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ اس نظام کے ذریعے آن بورڈنگ کا عمل انتہائی تیز، شفاف اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔

نشانِ پاکستان پورٹل کے ذریعے شناختی تصدیق کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا، جس سے جہاں ایک طرف خدمات کی فوری فراہمی ممکن ہوگی، وہی دوسری جانب شہریوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کو بھی مزید فول پروف بنایا گیا ہے۔
 
 

رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب