منٹوں میں شناختی تصدیق ممکن،نادرا کا "نشانِ پاکستان" پورٹل متعارف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :حکومتِ پاکستان کے 'ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ' کے تحت نادرا نے ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے "نشانِ پاکستان" کے نام سے جدید ترین آن لائن شناختی تصدیق کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔
اس نئے ویب پورٹل کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اب رجسٹریشن، سبسکرپشن اور ڈیٹا تک رسائی سمیت تمام تر سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کر دی گئی ہیں۔ ماضی میں سرکاری اور نجی اداروں کو طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار کی منظوریوں کے باعث جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، "نشانِ پاکستان" نے ان کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
نادرا آرڈیننس کے تحت فراہم کی جانے والی اس سروس سے نہ صرف سرکاری محکمے بلکہ ریگولیٹڈ نجی ادارے بشمول بینک، ٹیلی کام کمپنیاں اور دیگر مالیاتی ادارے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ اس نظام کے ذریعے آن بورڈنگ کا عمل انتہائی تیز، شفاف اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے۔
نشانِ پاکستان پورٹل کے ذریعے شناختی تصدیق کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا، جس سے جہاں ایک طرف خدمات کی فوری فراہمی ممکن ہوگی، وہی دوسری جانب شہریوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کو بھی مزید فول پروف بنایا گیا ہے۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔