مرکزی حکومت ناکام: دیرپا امن کے لیے افغانستان کو نئے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
افغانستان میں 4 دہائیوں سے جاری جنگ اور سیاسی عدم استحکام کو صرف قیادت کی ناکامی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ بنیادی طور پر افغان ریاست کے ڈیزائن میں ساختی خامیوں کا ہے۔
جدید افغانستان 19ویں صدی کی استعماری حدود اور جغرافیائی نقشہ بندی کا نتیجہ ہے، جس میں مقامی سماجی اتحاد یا قومی ہم آہنگی کو نہیں دیکھا گیا۔ مختلف نسلی، لسانی اور جغرافیائی گروہ پشتون، تاجک، ہزاره اور ازبک، کبھی مشترکہ قومی مقصد کے تحت متحد نہیں ہوئے، بلکہ زبردستی اور انتظامی جبر کے ذریعے ریاست میں باندھے گئے۔
مزید پڑھیں: افغانستان دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں شامل، عالمی تنظیم کی رپورٹ جاری
آج بھی افغانستان عملی طور پر نسلی اور جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم شدہ ہے۔ جنوبی و مشرقی علاقے، شمال اور وسطی پہاڑی علاقے الگ الگ طاقت کے ڈھانچوں اور تاریخی یادداشتوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ہر مرکزی حکومت کی کوشش نے نسلی تسلط، مقامی مزاحمت اور بالآخر ریاست کے انہدام کے سوا کچھ نہیں دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مرکزی ریاستی ماڈل اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔ طاقت مرکز پر مرکوز ہونے کی وجہ سے غیر حاکم گروہوں کے لیے ریاست زیادہ تر خدمات فراہم کرنے والی نہیں بلکہ وفاداری طلب کرنے والی قوت رہی۔ اس کا نتیجہ نسلی بنیادوں پر تشدد، بے دخلی اور مسلسل سیاسی بحران کی شکل میں نکلتا ہے۔
مستقبل کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ افغانستان میں نسلی وفاقیت یا بات چیت کے ذریعے رضاکارانہ تقسیم جیسے اختیارات پر غور کیا جائے، تاکہ سیاسی اختیار کو معاشرتی حقیقت کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ بین الاقوامی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ تقسیم شدہ یا وفاقی نظام نے گہرے تقسیم شدہ معاشروں میں مقامی حکمرانی، خوف کم کرنے اور تشدد کو اداروں کی طرف منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اہم یہ ہے کہ افغانستان کو کسی بھی نئے ڈیزائن کے لیے جبری نقل مکانی، نسلی صفایا یا یکطرفہ سرحدی تبدیلیوں سے بچنا ہوگا۔ تمام اقدامات تدریجی، مذاکراتی اور بین الاقوامی نگرانی میں ہونے چاہئیں، جس میں ریفرنڈمز اور اقلیتوں کے تحفظات شامل ہوں۔ مقصد صرف تقسیم نہیں بلکہ مسلسل جنگ کے محرکات کو کم کرنے والا سیاسی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔
مختصراً، افغانستان کو حکمران یا نظریات کی کمی نہیں ہے بلکہ سماجی حقیقت اور سیاسی ڈھانچے کے درمیان عدم مطابقت ہے۔ جب تک اس بنیادی تضاد کو حل نہیں کیا جاتا، کسی بھی امداد، پابندی یا سفارتی کوشش سے دیرپا امن ممکن نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیاسی ڈھانچے کی ضرورت مرکزی حکومت ناکام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان سیاسی ڈھانچے کی ضرورت مرکزی حکومت ناکام کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔