برطانوی وزیراعظم نے اپنی جماعت سے اٹھنے والے استعفے کے مطالبات مسترد کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
لندن(نیوز ڈیسک) برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے اپنی جماعت لیبر پارٹی سے اٹھنے والے استعفے کے مطالبات مسترد کر دیے۔
ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، عوام نے ملک کو تبدیل کرنے کیلئے مینڈیٹ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے ملک اور عوام سے محبت کرتا ہوں، ملک کیلئے آخری سانس تک لڑائی لڑوں گا، دائیں بازو کی سیاست ہمارے ملک کو تقسیم کر سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد برطانوی سیاست میں نیا بحران پیدا ہوگیا ہے جہاں سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کے ایپسٹین سے روابط سامنے آنے پر تنازع شدت اختیار کر گیا۔
لیبر پارٹی کے 2 ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی برطانوی وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا، جبکہ کیئر سٹارمر کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز ٹِم ایلن نے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برطانوی وزیراعظم
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔