ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو روک دیا
نجی ٹی وی چیل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔
وفاق نے 16 مئی 2025 کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں ترمیم کی اجازت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرِاعظم اور کابینہ سے امریکا میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔
گوادر: ساڑھے 18 ارب روپے سے زائد کی چرس پکڑی گئی، 2 سمگلرز گرفتار
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ درخواست میں ترمیم عدالتی اختیارات سے تجاوز اور طے شدہ مقدمات کی حتمیت کے منافی ہے، جبکہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ وفاق کے مطابق معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے جڑا ہے۔
ترمیم شدہ درخواست میں رہائی اور وطن واپسی کے لیے حکومتی اقدامات کو آئینی ذمہ داری قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق اکتوبر 2024 میں وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا، اعلیٰ سطحی وفد امریکا بھیجا گیا اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاہدوں کی کوششیں کی گئیں، تاہم امریکی حکام نے قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
ترکیہ: جیل سے رہائی پاتے ہی قیدی نے ماں، بیوی اور بیٹی کو قتل کردیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔