پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن محمود خان اچکزئی کے پاک فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے کہا کہ پاکستان کی فوج چار ضلعوں کی فوج ہے، اس سے بڑا غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں ہوسکتا، محمود خان اچکزئی سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی، ان کے بیان سے تکلیف ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن اٹیک نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلعے کی فوج نہیں ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم روزانہ نقصان اٹھا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 200 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق کیس،3مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں خون خرابے کی کوئی اجازت نہیں ہے، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کر دی جاتی ہیں، پاک فوج اپنے خون سے اپنے حلف کی تائید کر رہے ہیں، ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہ رہے ہوتے ہیں، ہم پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے پارٹیاں نہیں بدلیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم اپنے مفادات اور اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر میں خون سے کھینچی ہوئی لکیر کراس کرتا ہوں تو ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی مزدوروں کو قتل کیا جاتا ہے، لیکن اس کو صوبائیت کا رنگ نہیں دیا گیا، میرے اعداد و شمار کو چیلنج کریں کہ یہ چار ضلعوں کی فوج ہے، اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اس عہدے کی تذلیل ہے، یہ پورے قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی نہیں۔
سونا2300روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 5لاکھ 28ہزار 562روپے ہو گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نے کہا کہ پاک فوج کی فوج
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔