ایرانی میزائلوں نے طاقت کی مساوات کو بدل دیا ہے، عرب دفاعی ماہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
عبدالکریم خلف کا کہنا ہے کہ امریکا کو خلیج فارس میں طیارہ بردار بحری جہاز سمیت 17 سے 20 جنگی جہازوں کے بیڑے کی تعیناتی کے باوجود ایران کے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عراقی سیکورٹی اور عسکری ماہر نے کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی طاقت اور درستگی نے امریکہ کی خطے کے دفاع کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عراقی سیکورٹی اور عسکری ماہر عبدالکریم خلف نے کہا ہے کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی اب خطے میں امریکی اڈوں اور بحری بیڑوں کے لیے براہ راست اور تباہ کن خطرہ ہے۔ انہوں نے المعلمہ ویب سائٹ کو بتایا کہ تین ہزار کلومیٹر سے زیادہ میزائلوں کی رینج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی گہرائی اور خلیج فارس کے ممالک میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو آپریشنل رینج میں ڈال دیا ہے۔
عبدالکریم خلف نے بیان کیا کہ قطر میں العدید اڈہ، جو کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا اہم ستون اور صیہونی حکومت کے لیے ایک اہم ترین حفاظتی امدادی مراکز کے طور پر جانا جاتا ہے، امارات اور کویت میں اسی طرح کے اڈوں کے ساتھ اب براہ راست اور اعلیٰ درستگی والے میزائلوں کو نشانہ بنانے کے دائرے میں ہے۔ ان کے بقول، امریکا کو خلیج فارس میں طیارہ بردار بحری جہاز سمیت 17 سے 20 جنگی جہازوں کے بیڑے کی تعیناتی کے باوجود ایران کے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔
فوجی ماہر نے مزید کہا کہ نشانے کی اعلی درستگی، جو 10 میٹر سے کم ہے، اس نے ان خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت پر سنجیدگی سے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ انہوں نے شمالی عراق میں حریر اڈے کا ذکر کیا، جو کہ فضائی دستوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لیس ہے اور متحدہ عرب امارات میں الظفرا بیس، بڑے پیمانے پر تصادم میں فوجی اہداف، جہاں F-35 جنگی طیارے تعینات ہیں، کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ممکنہ اسٹریٹجک اہداف کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سمیت کچھ ممالک کو ممکنہ طور پر مستقبل میں مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔