WE News:
2026-06-02@22:25:20 GMT

نواز شریف عوامی رابطہ مہم سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

نواز شریف عوامی رابطہ مہم سے گریز کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، جو مئی 2024 میں دوبارہ پارٹی صدر منتخب ہوئے تھے، اب تک پارٹی کو مکمل طور پر متحرک کرنے سے گریزاں دکھائی دے رہے ہیں۔ تقریباً 2 سال گزرنے کے باوجود نواز شریف عوامی رابطہ مہم شروع کرنے یا ملک بھر میں جلسے جلوس منعقد کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

نواز شریف کی حکمت عملی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا بنیادی فوکس گورننس اور عوامی بہبود پر ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت میں آنے کے بعد پہلے 3 سے 4 سال تک حکمرانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے، جبکہ سیاسی سرگرمیاں آخری ڈیڑھ سال تک محدود رکھی جائیں۔ مزید برآں، وہ ابھی کوئی نیا بیانیہ بنانے کے موڈ میں بھی نہیں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ گورننس کے ماڈل کو ہی بیانیہ بنا کر عوام کے درمیان جایا جائے، کیونکہ پاکستان میں نواز شریف کا ایک مضبوط ووٹ بینک موجود ہے اور وہ اپنے ووٹرز کو کارکردگی کی بنیاد پر متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نواز شریف ملکی سیاست میں اہم کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، رکاوٹ کون ہے؟

نواز شریف کی یہ حکمت عملی ان کی سیاسی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک نواز شریف کو ’ترقی کا معمار‘ کہا جاتا ہے، جنہوں نے موٹرویز، سی پیک جیسے میگا پراجیکٹس اور صنعتی شعبے کی بحالی پر زور دیا۔ 2017 میں پاناما کیس میں نااہلی کے بعد وہ 7 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اکتوبر 2023 میں وطن واپس آئے۔

فروری 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت بنائی، جبکہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف وزیراعظم بنے اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں۔ مئی 2024 میں نواز شریف بلا مقابلہ پارٹی صدر منتخب ہوئے، مگر اس کے بعد سے پارٹی کی تنظیمِ نو یا عوامی مہم کا کوئی بڑا اقدام سامنے نہیں آیا۔

پہلے کام کرو، پھر ووٹ مانگو

2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ ’خدمت کو ووٹ دو‘ تھا، جو ترقی اور عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں کی عکاسی کرتا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف 2029 کے آئندہ انتخابات میں بھی اسی بیانیے کو آگے لے کر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق نواز شریف کا موقف واضح ہے: پہلے کام کرو، پھر ووٹ مانگو۔ وہ نہ صرف خود سیاسی سرگرمیوں سے گریز کرتے ہوئے گورننس پر توجہ دے رہے ہیں بلکہ مریم نواز کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سیاست بعد میں، پہلے حکمرانی کا ماڈل مضبوط کیا جائے۔

اسی وژن کے تحت پنجاب میں متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں جو نواز شریف کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے لاہور میں بسنت کی رونقیں عروج پر، نواز شریف بھی ڈور اور گڈا پکڑے جشن میں شریک ہوئے

بسنت فیسٹیول، جو برسوں سے پابندی کا شکار تھا، بحال کیا گیا ہے تاکہ ثقافتی سرگرمیاں فروغ پائیں۔ اسی طرح میلہ مویشیاں کی بحالی، تاریخی ورثے کی جگہوں کی مرمت اور پنجاب بھر میں ترقیاتی کاموں کا تسلسل جاری ہے۔ یہ سب اقدامات نواز شریف کے ’ڈویلپمنٹ فرسٹ‘ فلسفے کا حصہ قرار دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف پارٹی کے اندر تنظیمی تبدیلیاں بھی اسی وقت کریں گے جب گورننس کے نتائج عوام تک پہنچ جائیں گے۔ اس وقت تک وہ عوامی رابطہ مہم یا جلسوں سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ حقیقی کارکردگی ہی ووٹرز کو قائل کرے گی۔ یہ حکمت عملی مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مسلم لیگ ن نواز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ ن نواز شریف نواز شریف مسلم لیگ رہے ہیں کے بعد

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف