مضبوط مؤقف اور ٹھوس انداز سے منفی بیانیہ رد کرنا ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
مریم نواز---فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہا جائے، مضبوط مؤقف اور ٹھوس انداز سے منفی بیانیے کو رد کرنا ہے۔
ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں آمد کے موقع پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے، بلوچستان تنہا نہیں ہم سب اس کے شانہ بشانہ ہیں، دشمن ہمارے ملک کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے، اگر ہم متحد رہیں گے تو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، اگر ہم مضبوط ہیں تو بدترین دشمن بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، جو پاکستان کو کمزور کرتا ہے وہ پاکستان کا بد ترین دشمن ہے۔
مریم نواز نے فرنٹیئر کور کے لیے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان بھی کیا۔
کوئٹہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بلوچستان میں.
انہوں نے کہا کہ ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں آنا میرے لیے اعزاز ہے، مشکلات کے باوجود فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کو سلام پیش کرتی ہوں، ایف سی کے جوان ملک کے لیے قربانی پیش کر رہے ہیں، ملک کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء ہمارا سرمایہ ہیں، شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہوں، سخت ترین موسمی حالات اور دشوار گزارراستوں پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا بڑی بات ہے۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز میں خواتین کا آنا خوش آئند ہے، پاکستان کی بیٹیاں خدمت اور فرائض کی انجام دہی میں کسی سے کم نہیں۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے، سی سی ٹی وی کے ذریعے ہر گلی محلے اور شاہراؤں کی نگرانی کی جا رہی ہے، دنگا فساد، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر حملوں کا خاتمہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔