آئی جی پنجاب کے پولیس اصلاحات کے لیے 5 اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سٹی42: آئی جی پنجاب نے پولیس اصلاحات کے سلسلے میں اہم فیصلے جاری کرتے ہوئے ناکوں اور تھانوں میں آنے والے شہریوں سے باوقار انداز میں پیش آنے اور نظام کی مؤثر مانیٹرنگ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق ناکوں اور تھانوں میں آنے والے شہریوں کو "سر"، "میڈم" اور "جناب" کہہ کر مخاطب کیا جائے گا۔ ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
پولیس خدمت مراکز میں آنے والے شہریوں سے بھی باعزت اور خوش اخلاقی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
احکامات کے تحت ایس ایچ او آفس، محرر آفس اور فرنٹ ڈیسک کی سرگرمیاں براہ راست سی پی او آفس سے مانیٹر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ تھانوں میں نصب کیمروں کا بیک اپ محفوظ بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
آئی جی پنجاب نے ہدایت کی کہ سائلین کی درخواستوں کو وزیراعلیٰ آفس اور سینٹرل پولیس آفس سے مانیٹر کیا جائے گا جبکہ شہریوں سے پولیس کے رویے کے بارے میں باقاعدہ فیڈبیک بھی لیا جائے گا۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
مزید برآں خواتین اور بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات کی تفتیش کے دوران متاثرہ افراد کی عزتِ نفس کو ملحوظ خاطر رکھنے کی خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔