ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کا نیا فیصلہ ،سکیورٹی امور پولیس اور سی ٹی ڈی کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریاں کے پی پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کی جائیں گی۔امن و امان کی مجموعی صورتِ حال پر غور کے لیے کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر پشاور نے شرکت کی۔ اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔اجلاس کے بعد وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ سطح اجلاس میں امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور وزیراعلیٰ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان متعدد امور پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی اشتراک سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر قانون نے مزید کہا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں طے شدہ فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے قبل یقینی بنایا جائے گا، جہاں صوبائی فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ادھر مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ اجلاس میں معیشت اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہونے پر سروسز مرحلہ وار سول انتظامیہ کے حوالے کر دی جائیں گی۔خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ اجلاس میں صوبے کو درپیش مالی مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع کے لیے موجودہ مالی وسائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی مشکلات کے حل کے لیے تجاویز دی گئی ہیں اور وفاق و صوبہ مل کر متاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔