وفاق اور خیبر پختونخوا ایک پیج پر، ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں معیشت اور لا اینڈ آرڈر سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں امن و امان کے حوالے سے فوج کو دی گئیں ذمہ داریاں پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورت حال پر غور کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی حکومت کے نمائندوں اور سینئر سول و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اجلاس میں معیشت اور لا اینڈ آرڈر سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کی جائیں گی، ملاکنڈ میں اختیارات پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرے اضلاع میں جہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری ہے وہاں حالات بہتر ہونے کے بعد اختیارات پولیس کے حوالے کردیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مالی مسائل تفصیل سے زیر بحث آئے، وزیر اعظم کے سامنے صوبے کو درپیش مالی مشکلات اور مالی ایشوز دوبارہ تفصیل سے رکھے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کو این ایف سی کا واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں، کم وفاقی فنڈز کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت ضم اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے، ضم اضلاع کے لیے موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں، آئندہ مالی مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صوبے کی سفارشات وفاقی حکومت کے سامنے رکھی جائیں گی، وفاق کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی ریلیف دلایا جائے گا۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ آپریشنز کے باعث مارکیٹ بندش سے متاثرہ علاقوں کے روزگار پر بھی بات ہوئی، متاثرہ علاقوں میں تجارت کے متبادل انتظامات اور روزگار کے مواقع پر یقین دہانی کرائی گئی، وفاق اور صوبہ مل کر متاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔ وزیر قانون آفتاب عالم نے بتایا کہ اجلاس میں امن و امان سے متعلق اہم اور تاریخی فیصلے کیے گئے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی شرکت میں اجلاس میں اہم فیصلوں پر اتفاق ہوا، ملاکنڈ ڈویژن میں پاک فوج اپنی ذمہ داریاں صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ہے، یہ فیصلہ خیبر پختونخوا پولیس پر اعتماد کے اظہار کا واضح ثبوت ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کا اجلاس بلا کر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت سیاسی و مذہبی اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، صوبائی ایپکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی سے قبل یقینی بنایا جائے گا اور نیشنل ایپکس کمیٹی میں صوبائی فیصلوں کی توثیق کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بتایا کہ اجلاس میں متاثرہ علاقوں خیبر پختونخوا نے بتایا کہ ذمہ داریاں کے حوالے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔