جذباتی باتیں نہیں کیں، اپنے الفاظ پر قائم ہوں: محمود اچکزئی کا خواجہ آصف کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
محمود خان اچکزئی---فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ کبھی جذباتی باتیں نہیں کیں، جو الفاظ ادا کیے ان پر قائم ہوں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں 90ء کی دہائی سے اسمبلی میں آ رہا ہوں، فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟ آپ فوج کی بات نہ کریں، شہداء کی بات کریں، ہم نے انگریزوں کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، یہاں کے لوگ انگریزوں کے ساتھ تھے، ہمارے ساتھ لڑ رہے تھے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا سنا تھا کہ اسلام آباد حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، دہشت گردی تب شروع ہوئی جب روس کیخلاف افغانستان میں بین الاقوامی گروہوں کا ساتھ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ میں اس ملک کا باسی ہوں، جمہوریت کے مخالفین کے خلاف بولوں گا، آپ نے ہمیں جمہوریت کی حمایت میں سزائیں دیں، آپ نے پشتونوں کی اقتصادی خودکشی کرا دی، کیا یہ پارلیمنٹ مارشل لاز کو جائز قرار دینے کے لیے ہے؟ آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمیں آبادی کے حساب سے اپنا حصہ چاہیے، ہمیں حقِ حکمرانی میں اپنا حصہ چاہیے، ہم یہ تعصب کی بنیاد پر نہیں کر رہے، نواز شریف نے کہا تھا کہ افغانوں کو شہریت دینے میں کوئی برائی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔